جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 ہارون رشید اردوکے بہترین سفارت کارتھے : اعجاز علی ارشد
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

ہارون رشید اردوکے بہترین سفارت کارتھے : اعجاز علی ارشد

Awaz E Bihar•15 اپریل، 2026 کو 08:01 AM•0 ویوز•6 منٹ پڑھیں

پٹنہ:(اے بی این ) علمی مجلس بہار کے زیرِ اہتمام معروف شخصیت مرحوم ہارون رشید کی یاد میں ایک باوقار یادگاری تقریب کا انعقادآج بہار اردو اکادمی، اردو بھون، اشوک راج پتھ، پٹنہ میں منعقد ہوا۔تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے ہندی ساہتیہ سمیلن کے صدر ڈاکٹر انل سلبھ نے کہا کہ ہارون رشید بہار کی ایک ایسی عظیم شخصیت تھے جن کی انمٹ چھاپ آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ وہ دانشوروں کی حوصلہ افزائی کے لیے جانے جاتے تھے اور مالی اعتبار سے مجبور ادیبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی اور ہمیشہ اہلِ قلم کی سرپرستی میں پیش پیش رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہارون رشید نہ صرف ایک مخلص سماجی کارکن تھے بلکہ ایک دور اندیش شخصیت کے مالک بھی تھے، جنہوں نے اپنی بصیرت اور اخلاص کے ذریعے ادبی و سماجی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کا طرزِ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ علم، خدمت اور انسانیت کے جذبے کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی عظیم شخصیات کو یاد رکھنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے، اور یہی ہمارے معاشرے کی ترقی اور فکری بالیدگی کا ضامن بھی
صدارت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ممتاز ادیب و دانشور ڈاکٹر عبدالصمد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہارون رشید مجھ سے بے حد محبت رکھتے تھے، جس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ وہ میرے والد کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہارون رشید جیسی ادب نواز، مخلص اور اہلِ قلم کی حقیقی قدر کرنے والی شخصیت دیکھنے کو نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہارون رشید کی زندگی علم و ادب کی خدمت سے عبارت تھی اور وہ ہمیشہ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی سرپرستی کرتے رہے۔ خصوصاً ایسے اہلِ قلم جو مالی دشواریوں سے دوچار ہوتے تھے، ان کی خاموشی کے ساتھ مدد کرنا ان کا خاص وصف تھا۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ ہارون رشید نہ صرف ایک بلند پایہ انسان تھے بلکہ ایک ایسے مربی اور سرپرست بھی تھے جنہوں نے کئی نئی نسل کے قلمکاروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج کے دور میں جہاں مادیت کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، وہاں ہارون رشید جیسی شخصیات کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے علم و ادب کی خدمت کو اپنی ترجیح بنائیں اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھیں۔آخر میں انہوں نے ہارون رشید کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یادیں اور ان کا کردار ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتا رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بنا رہے گا۔
۔ اس موقع پرمولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسیٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز ارشد نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے مقرر نے نہایت جامع اور مدلل انداز میں کہا کہ ہارون رشید اردو ادب، تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کے ایک عظیم سفارتکار تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کے فروغ، اس کی بقا اور اس کے وقار کی بحالی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کا طرزِ عمل ہمیشہ اعتدال، سنجیدگی اور حکمت پر مبنی رہا، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر حلقے میں یکساں طور پر مقبول اور محترم تھے۔مقرر نے کہا کہ ہارون رشید کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ ٹکراؤ اور تصادم کی سیاست سے ہمیشہ دور رہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسائل کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مکالمہ، رواداری اور باہمی افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے حکومتِ وقت سے بھی مثبت اور مضبوط تعلقات قائم رکھے، تاکہ اردو زبان اور اس سے وابستہ مسائل کو بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے اور ان کا حل نکالا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو تحریک کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، ہارون رشید کا نام سنہرے حروف میں درج ہوگا، کیونکہ ان کی خدمات کے بغیر اس تحریک کی کہانی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف مختلف پلیٹ فارمز پر اردو کے حق میں آواز بلند کی بلکہ تعلیمی، سماجی اور ادبی میدان میں بھی عملی اقدامات کے ذریعے اس زبان کو تقویت پہنچائی۔
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بولتے ہوئے اردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ایس ایم پرویز عالم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہارون رشید کی شخصیت میں بردباری، تحمل اور دور اندیشی کا ایسا حسین امتزاج تھا جو آج کے دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ اختلافات کے باوجود اتحاد اور ہم آہنگی کے قائل تھے اور ہمیشہ معاشرے میں بھائی چارے اور یکجہتی کی فضا قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ہارون رشید کی فکر، ان کا اسلوب اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اردو زبان اور اپنی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مثبت کوششیں جاری رکھیں، یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ علاوہ ازیںسابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اکبر رضا جمشید اورگورنمنٹ اردو لائبریری کےسابق چیرمین ارشد فیروز، معروف شاعر مرغوب اثر فاطمی کلیم اللہ کلیم دوست پوری، ڈاکٹر اظہار احمد ، نسیم احمد ،ڈاکٹر اشرف النبی قیصر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
پروگرام کی شروعات علمی مجلس بہار کے جنرل سکریٹری پرویز عالم کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ نظامت کے فرائض فخر الدین عارفی نے نبھائے۔ جبکہ ظفر صدیقی ، عرفان بلہاروی نے منطوم خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر شہنواز رضوی کی مرتب کردہ کتاب درس و تدریس فن کا اجرا عمل میں آیا اور ساتھ ہی اس موقع پر ڈاکٹر احسان احمد،دربھنگہ کو پروفیسر عبد المغنی ایوارڈ، آفتاب احمد ، گیا کو کلام حیدری ایوارڈ اور عرفان احمد بلہاروی اور ڈاکٹر محمد ناصر الدین کو ہارون رشید ایواررڈ سے نوازہ گیا ۔ اس موقع پر ہارون رشید کے صاحبزادہ عامر رشید ،بیٹی شہوار رشید، تنویرالحق، درخشاں نیلم، شمع کوثر شمع ، ڈاکٹر انوارالہدیٰ، ڈاکٹر آصف سلیم ، ماسٹر عظیم الدین انصاری،حاجی پور،شہنواز عطا، آصف عطا، ضیا ء الحسن ،عتیق الزماں، افضل حسین، روبی بھوشن، عبد الرحمٰن سرور، انواراللہ ، محمد فیروز،معین گریڈیہوی ، وغیرہ موجود تھے

شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026