جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پیپر لیک پر راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحث، اپوزیشن نے کہا بل مسئلے کا حل نہیں
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

پیپر لیک پر راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحث، اپوزیشن نے کہا بل مسئلے کا حل نہیں

Awaz E Bihar•30 جولائی، 2026 کو 04:52 PM•23 ویوز•9 منٹ پڑھیں

پیپر لیک سے متعلق بل پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ اپوزیشن نے اسے بے اثر کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، جبکہ حکومت نے کہا کہ بل میں ایسے سخت اور مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں جن سے پیپر لیک پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔ دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) نے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے نیٹ (این ای ای ٹی) امتحان کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ترنمول کانگریس کی رکن ساگاریکا گھوش نے لوک امتحان (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل مسئلے کا حل پیش نہیں کرتا بلکہ اس میں صرف سزا کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی امتحان کا پرچہ لیک ہوتا ہے اور امتحان منسوخ کیا جاتا ہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہوتی ہے، جس سے طلبہ کے ساتھ بڑا دھوکہ ہوتا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طلبہ کی بات نہیں سنتی، وہ صرف "من کی بات" سنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے خواب ٹوٹ گئے اور 21 طلبہ نے اپنی جان گنوا دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت کے ارکان طلبہ کے درد کو نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے اپنے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناکامی کے باعث بچوں کی جانیں گئیں، لیکن وزیر اعظم نے اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
ترنمول کانگریس کی رکن نے کہا کہ جب حکومت طلبہ کی بات نہیں سنتی تو ان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا، مگر وہاں بھی انہیں پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو ایوان میں آ کر طلبہ پر پولیس کارروائی کے بارے میں جواب دینا چاہیے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو غدار قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور نہ ہی احتجاج کو جرم سمجھا جانا چاہیے۔
ڈی ایم کے کے تروچی شیوا نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ بل مرکزی وزیر برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے کیوں پیش کیا، جبکہ اسے وزیر مملکت برائے تعلیم بھی پیش کر سکتے تھے۔ انہوں نے اس بل کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کر رہی۔
شیوا نے نیٹ امتحان پر سوال اٹھاتے ہوئے زور دیا کہ اسے مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے اس دعوے کی بھی سخت مخالفت کی کہ احتجاجی طلبہ پر پیلٹ گن استعمال نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیلٹ گن استعمال نہیں ہوئی تو پھر اسپتالوں میں زیر علاج طلبہ کس چیز سے زخمی ہوئے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر داخلہ جنتر منتر جا کر طلبہ سے ملے یا ایوان میں آ کر اس معاملے پر وضاحت دی؟
بھارتیہ جنتا پارٹی کے برج لال نے کہا کہ حکومت کی نیت صاف ہے اور وہ پیپر لیک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت بل میں متعدد اہم دفعات شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں کی بھی شقیں رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے مقدمات میں فیصلوں کے خلاف اپیل صرف ہائی کورٹ میں کی جا سکے گی۔
بی جے پی رکن نے زور دے کر کہا کہ احتجاجی طلبہ پر پیلٹ گن استعمال نہیں کی گئی۔ انہوں نے متعدد مواقع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی حکومتوں کے دوران کئی بار مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں۔ اس ضمن میں انہوں نے خاص طور پر 1966 میں پارلیمنٹ کے سامنے سادھو سنتوں کے احتجاج کا ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت سادھو سنتوں اور گؤ ماتا کے حامیوں پر فائرنگ کی گئی تھی۔ سماجوادی پارٹی کے اس الزام پر کہ حکومت کی نیت صاف نہیں، برج لال نے کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومتوں کے دوران نقل کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے دی گئی تھی۔
اوڈیشہ سے بیجو جنتا دل کے سنترپت مشرا نے کہا کہ یہ بل صرف پیپر لیک کے ملزمان کو سزا دینے کی بات کرتا ہے، لیکن اس سے متاثر ہونے والے طلبہ کے بارے میں اس میں کچھ نہیں کہا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 2024 کے نیٹ پیپر لیک معاملے میں دو سال گزرنے کے باوجود کسی کو سزا نہیں ملی، تو پھر تحقیقاتی ایجنسیاں 60 دن کے اندر تحقیقات کیسے مکمل کریں گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بل جلدبازی میں پیش کیا گیا ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اس قانون سے تعلیمی نظام میں واقعی کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں جرم کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر انتظام نہیں، بلکہ صرف جرم ہونے کے بعد سزا کی بات کی گئی ہے۔
آندھرا پردیش سے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے یرم وینکٹ سبّا ریڈی نے بل کی حمایت کرتے ہوئے سزاؤں میں اضافے کی شقوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل محدود نوعیت کا ہے اور ریاستی سطح کے امتحانات میں ہونے والے پیپر لیک اس کے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہیں۔
تمل ناڈو سے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایم تھمبیدورائی نے تمل زبان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بھی ریاست میں نیٹ امتحان کی مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کوچنگ سینٹر ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جو طلبہ کے خاندانوں پر بھی مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ پیپر لیک کے واقعات کے پیچھے یہی کوچنگ سینٹر ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بند کرنے کے لیے اس بل کے بجائے الگ قانون لایا جانا چاہیے۔
بہار سے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سنجے کمار جھا نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سوالیہ پرچہ لیک ہوتا ہے تو پورے نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی مشکل نہیں، لیکن اس کی سب سے بڑی قیمت طلبہ کو چکانی پڑتی ہے۔ امتحانی مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے اور یہ بل اس پر قابو پانے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ صرف سزا بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو جن جرائم میں سزائے موت مقرر ہے، وہ بھی ختم ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پہلے کی طرح ریاستوں کو اپنی میڈیکل داخلہ امتحانات منعقد کرنے کا اختیار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں بڑی تعداد میں کنٹریکٹ ملازمین کام کر رہے ہیں، اس لیے پیپر لیک کو روکنا مشکل ہے۔
مہاراشٹر سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پرفل پٹیل نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل ہی ملک کا مستقبل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچنا غلط ہے کہ حالیہ واقعات پر حکومت کو کوئی احساس نہیں ہوا۔ حکومت نے انہی خدشات کے پیش نظر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں تعلیم کے شعبے میں ہونے والے کام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فضول بحثوں میں پڑنے کے بجائے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ نظام میں بہتری کیسے لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں احتجاج کا حق ضرور ہونا چاہیے، لیکن احتجاج حدود و ضوابط کے اندر ہونا چاہیے۔آندھرا پردیش سے تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے بھاشیام رام کرشنا نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طالب علم کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے، مگر اس کا مستقبل پورے تعلیمی نظام کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جب وہ امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو اس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں امتحان اس کے خوابوں اور اس کے خاندان کی امیدوں کا بھی ہوتا ہے۔
عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے کہا کہ جب پہلی مرتبہ نیٹ کا امتحان ہوا تھا تو 22.80 لاکھ طلبہ نے شرکت کی تھی، لیکن پیپر لیک کے بعد دوبارہ ہونے والے امتحان میں صرف 20 لاکھ طلبہ شریک ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ باقی 2.80 لاکھ طلبہ کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم پر صرف دو فیصد خرچ کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا گیا، جبکہ بہار میں طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وہ دہشت گرد تھے؟
بہار سے راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا نے کہا کہ نمائشی اصلاحات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کی جڑ ختم کرنا ہوگی، اور ان کے مطابق اس مسئلے کی جڑ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی قانون لایا جائے تو اس کے ساتھ جوابدہی بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ "سنہرا دور پہلے بھی نہیں تھا، لیکن آج حالات پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔"

شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

24 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

13 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026