بہار میں رضا نقوی واہی طنز و مزاح کے سب سے بڑے شاعر تھے: پروفیسر ابو بکر رضوی
Awaz E Bihar••43 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پاٹلی پتر یونیورسٹی میں ’’بہار میں اردو طنز و مزاح کی روایت اور شاعری‘‘ پر یک روزہ قومی سیمینار، پروفیسر محمد عباس کی الوداعی تقریب بھی منعقد پٹنہ، 29 جولائی: پاٹلی پتر یونیورسٹی کے پی جی شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام کالج آف کامرس کے سیمینار ہال میں ’’بہار میں اردو طنز و مزاح کی روایت اور شاعری‘‘ کے موضوع پر ایک باوقار یک روزہ علمی سیمینار منعقد کیا گیا۔ اسی موقع پر شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر محمد عباس کی الوداعی تقریب بھی نہایت وقار اور علمی ماحول میں انجام پائی۔ سیمینار میں بہار کی مختلف جامعات کے اساتذہ، محققین، دانشوروں اور ریسرچ اسکالروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اردو طنز و مزاح کی روایت، اس کی ادبی اہمیت اور سماجی افادیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کہا کہ ظرافت نگاری اردو ادب کی نہایت دلکش، شگفتہ اور مؤثر صنف ہے، جس میں طنز، مزاح، خوش طبعی اور ظریفانہ اندازِ بیان کے ذریعے معاشرتی ناہمواریوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی طنز وہ ہے جس میں اصلاح کا پہلو بھی موجود ہو اور جس پر طنز کیا جائے وہ بھی اس سے لطف اندوز ہو۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ طنز و مزاح ان کا پہلا عشق ہے جو آج بھی برقرار ہے۔ شاعری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اچھی شاعری ہمیشہ دل پر اثر انداز ہوتی ہے، خواہ وہ سنجیدہ ہو یا مزاحیہ؛ فرق صرف یہ ہے کہ ایک درد جگاتی ہے اور دوسری مسکراہٹ بکھیرتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی مزاحیہ شاعری بھی سنائی جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ انہوں نے ریسرچ اسکالروں کے پیش کردہ مقالات پر مفید تبصرے کرتے ہوئے ان کی علمی رہنمائی بھی کی۔ مہمانِ خصوصی پاٹلی پتر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ابو بکر رضوی نے کہا کہ پروفیسر محمد عباس نے اپنی الوداعی تقریب کو رسمی تقریب بنانے کے بجائے علمی سیمینار میں تبدیل کر کے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو طنز و مزاح کا ذکر آتے ہی سب سے پہلے اکبر الٰہ آبادی کا نام ذہن میں آتا ہے، جنہیں اس صنف میں غیرمعمولی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے دلاور فگار کا بھی ذکر کیا اور بہار کی طنزیہ شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رضا نقوی واہی بہار میں طنز و مزاح کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں تعلیم، طلبہ، اساتذہ اور جامعات سے متعلق جو طنزیہ اور فکری اشعار ملتے ہیں، ان کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ زمانہ بدل گیا ہے، لیکن رضا نقوی واہی کے اشعار آج بھی اپنے عہد کی سچائی بیان کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اسی موقع پر پروفیسر ابو بکر رضوی نے یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر محمد عباس کو شال اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے ان کی طویل تدریسی، انتظامی اور ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر کرشن نندن نے پروفیسر محمد عباس کی دیانت داری، نظم و ضبط اور امتحانی نظام میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جب بھی امتحانی مراکز میں مبصر کی حیثیت سے جاتے تھے تو ان کی موجودگی ہی پورے مرکز کو نظم و ضبط کا پابند بنا دیتی تھی۔ پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر شہاب ظفر اعظمی نے کہا کہ عام طور پر لوگ سبکدوشی کے بعد عملی سرگرمیوں سے الگ ہو جاتے ہیں، لیکن پروفیسر محمد عباس نے اپنی ریٹائرمنٹ کو بھی ایک علمی تقریب میں تبدیل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ علم و ادب کی خدمت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ انہوں نے ریسرچ اسکالروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے، لیکن اصل صلاحیت اس مواد کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معیاری زبان، مسلسل مطالعہ اور علمی سنجیدگی ہی ایک محقق کی اصل شناخت ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محض مزاح کا مقصد اصلاح نہیں ہوتا، لیکن جب مزاح کے ساتھ طنز شامل ہو جائے تو وہ معاشرتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد عباس نے تمام مہمانوں، اساتذہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ تحقیق اور علمی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں گے اور ریسرچ اسکالروں کی ہر ممکن رہنمائی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنی تدریسی زندگی، شعبے کی ترقی اور مختلف علمی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے نوجوان محققین کو خلوص، محنت اور مطالعے کو اپنی زندگی کا شعار بنانے کی تلقین کی۔ سیمینار میں پروفیسر اشوک کمار، پروفیسر منور فضل، ڈاکٹر آسیہ پروین، ڈاکٹر مشرف حیات، ڈاکٹر عرفان، پروفیسر ضیا یوسف، پروفیسر اکبر علی اور دیگر ممتاز شخصیات نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو طنز و مزاح کی روایت اور پروفیسر محمد عباس کی علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر ریسرچ اسکالروں انظر اللہ، شازیہ تبسم، نشاط پروین، محمد اشتیاق احمد، ثانیہ فرحت جمال، محمد معراج، شائستہ مہتاب، نکہت ہاشمی، شبانہ عشرت، شرف عالم شمسی، کوثر تسنیم، نشاط عروس، کہکشاں جبین، محمد شاہد احمد عالم، خوشبو حسن رضوی، سمرن حسن رضوی سمیت متعدد محققین نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے، جنہیں حاضرین نے سراہا۔آخر میں شعبۂ اردو کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نیلوفر یاسمین نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار کی کامیابی ان تمام مہمانوں، مقررین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کے تعاون کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنی قیمتی مصروفیات کے باوجود اس علمی نشست میں شرکت کر کے اس کی وقعت میں اضافہ کیا۔پروگرام کی نظامت محمد تمجید رضا اور گل صبا نے مشترکہ طور پر انجام دی، جبکہ تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ عمل میں آیا۔