آئندہ برسوں میں یونیورسٹی پسماندہ و قبائلی نوجوانوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے کام کرے گی
Awaz E Bihar••16 ویوز•3 منٹ پڑھیں
صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو آندھرا پردیش کے وجیانگرم میں سنٹرل ٹرائبل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش کے پہلےجلسہ تقسیم اسناد میں شرکت کی ۔محترمہ مرمو نے قبائلی یونیورسٹیوں سے برادریوں کے درمیان قیادت اور پالیسی سازی کے مرکز کے طور پر ابھرنے اور ان کی تعلیم، روزگار اور مجموعی ترقی میں اہم رول ادا کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سنٹرل ٹرائبل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش پر کئی خصوصی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ادارہ قبائلی سماج میں خود اعتمادی، قیادت اور پالیسی سازی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک اہم مرکز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کے مقصد کے تحت قائم کیے گئے اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خطے کی قبائلی برادریوں کی تعلیم، صحت، ہنر مندی، روزگار اور جنگلاتی حقوق کے لیے زمینی سطح پر کام کریں۔ انہوں نےاس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ برسوں میں یہ یونیورسٹی پسماندہ اور قبائلی نوجوانوں کی ہمہ جہت ترقی کے ساتھ ساتھ خطے کی مجموعی ترقی کے لیے بھی بامعنی کوششیں کرے گی۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ تمام یونیورسٹیوں، خصوصاً قبائلی یونیورسٹیوں کو ایسے جدید اور اختراعی نظام قائم کرنا چاہئے جو قبائلی عوام کے روزگار میں بہتری لائیں اور جنگلاتی پیداوار، دستکاری، باجرے، ادویاتی پودوں، ماحولیاتی سیاحت اور مقامی کاروبار جیسے شعبوں میں نتیجہ خیز کام کو فروغ دیں۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ تقریب تقسیم اسناد ہر طالب علم کی زندگی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک جشن کا دن ہے، لیکن ساتھ ہی یہ لمحہ طلبہ کو اپنے مستقبل کے بارے میں عزم کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے ہنر مندی کے ابھرتے ہوئے شعبوں پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھ کر عملی مہارتیں بھی حاصل کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی برادری، ثقافت اور روایات سے جڑے رہتے ہوئے معاشرے اور قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمارے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک میں اپنی تہذیبی وراثت سے جڑے رہتے ہوئے جدید سائنس کے فوائد کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت یہ یونیورسٹی شمالی آندھرا پردیش کی قبائلی برادریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک'سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہب'چلا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی نے تعلیمی اور زمینی دونوں سطحوں پر قبائلی بہبود، عوامی صحت، موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، اور توانائی کے تحفظ جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے اس اعتمادکا اظہار کیا کہ یہ تمام پہلو ایک منصفانہ اور وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ہمارا ہدف سال 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آندھرا پردیش کی سنٹرل ٹرائبل یونیورسٹی اس مقصد کے حصول میں اپنی بامعنی، جامع اور عملی تدریسی حکمت عملی کے ذریعے اہم کردار ادا کرے گی، جو ماحولیاتی تحفظ پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قبائلی برادریوں کو جدید تعلیم کے مفید پہلوؤں سے جوڑنے سے مقامی نوجوان ملک کی منصفانہ ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔