مغربی بنگال میں داخل ہونے والے درانداز دیگر ریاستوں میں بھی پھیل رہے ہیں
Awaz E Bihar••3 ویوز•2 منٹ پڑھیں
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ہفتہ کے روز کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات اہم ہیں کیونکہ ان کے نتائج ملک کے تمام شمال مشرقی ریاستوں کی سلامتی پر اثر انداز ہوں گے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما بسوا سرما نے کہا کہ دراندازی ایک معروف مسئلہ ہے جو مغربی بنگال کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ غیر قانونی درانداز جو بغیر کسی روک ٹوک کے مغربی بنگال کی سرحد عبور کر لیتے ہیں اکثر آسام، تریپورہ اور جھارکھنڈ جیسی پڑوسی ریاستوں میں پھیل جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ترنمول کانگریس حکومت اس بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔" ان کے مطابق یہ صورتحال ملک کی سلامتی، خصوصاً شمال مشرقی ریاستوں کی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا، "بنگال کی ممتا بنرجی حکومت اپنی ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے سرحدی باڑ (فینسنگ) کے منصوبے کو جان بوجھ کر سست کر رہی ہے۔" انہوں نے بتایا کہ منصوبہ بند 456 کلومیٹر کے حصے میں سے صرف 77 کلومیٹر کے لیے ہی زمین فراہم کی گئی ہے جس کی وجہ سے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کام کی رفتار سست ہے، جہاں فینسنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتر دیناج پور اور مالدہ جیسے اضلاع میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ اس لیے ہوا کیونکہ بنگال کی ترنمول حکومت نے دراندازوں کو ووٹ کا حق دے دیا۔بسوا سرما نے کہا، "ترنمول ایک ایسی پارٹی ہے جو اپنے مفاد کے لیے دراندازوں اور یہاں تک کہ سرحد پار اسمگلنگ کی بھی فعال طور پر حمایت کرتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں مغربی بنگال کے سرحدی اضلاع کی آبادیاتی ساخت میں کافی تبدیلی آئی ہے اور ایسے علاقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بڑا اضافہ سرحد پار دراندازی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، "بنگال کی ثقافتی وراثت اور ریاستی شناخت دراندازوں سے شدید خطرے میں ہے۔ اگر اگلے 20 سال تک یہی صورتحال رہی تو یہ بنگال کی وراثت کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔"