بہار میں سرمایہ کاری کو ملے گی نئی رفتار، وزیر سنجے کمار نے کیا’شوگر کین انویسٹمنٹ پروموشن پورٹل‘ کا افتتاح
Awaz E Bihar••8 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 5 اگست (اے بی این) بہار میں گنے پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو نئی رفتار دینے کی سمت میں ایک اہم پہل کرتے ہوئے گنا انڈسٹری کے وزیر سنجے کمار نے بدھ کو "شوگر کین انویسٹمنٹ پروموشن پورٹل (ایس آئی پی پی)" کا افتتاح کیا۔ "بہار شوگر کین انڈسٹری انویسٹمنٹ پروموشن پالیسی-2026" کے تحت تیار کیا گیا یہ پورٹل سرمایہ کاروں کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جہاں سرمایہ کاروں کو پالیسی سے متعلق معلومات، زمین کی دستیابی، آن لائن منظوری کے عمل، سبسڈیز کے انتظام اور منصوبوں کی آن لائن نگرانی جیسی تمام اہم سہولیات ایک ہی جگہ پر دستیاب ہوں گی۔ اس پورٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کا عمل زیادہ شفاف اور سرمایہ کار دوست بنے گا۔ اس موقع پر گنا انڈسٹری کے وزیر نے کہا کہ ایس آئی پی پی ریاست میں سرمایہ کاروں کے لیے سنگل ونڈو سہولت کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سرمایہ کاری کا عمل زیادہ شفاف، جواب دہ اور تیز ہوگا۔ بہار شوگر، ایتھنول، کو-جنریشن اور کمپریسڈ بائیو گیس انڈسٹریز کے لیے ایک پرکشش سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ وزیر نے بتایا کہ پورٹل پر سرمایہ کار منصوبے کے مطابق دستیاب مراعات اور اہلیت کی معلومات حاصل کر سکیں گے۔ پورٹل کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ضلع وار دستیاب زمین کا انتخاب، زمین کے لیے آن لائن درخواست اور سوالات و شکایات کے آن لائن ازالے جیسی سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ انویسٹمنٹ پروموشن بورڈ کے پہلے مرحلے کی منظوری کے لیے محکمہ جاتی تعاون، منصوبوں کی آن لائن مانیٹرنگ اور سبسڈی کلیم و تقسیم کا پورا عمل بھی ڈیجیٹل ذرائع سے ہوگا، جس سے سرمایہ کاری کا عمل زیادہ آسان، شفاف اور وقت کا پابند بن سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہار شوگر کین انڈسٹری انویسٹمنٹ پروموشن پالیسی-2026 کے تحت سرمایہ کاروں کو کئی پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں۔ نئی شوگر ملوں کے قیام کے لیے 70 کروڑ تک کی بنیادی گرانٹ کا التزام رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پانچ سال تک نیٹ ایس جی ایس ٹی کی 100 فیصد واپسی اور اہل زمین ایک روپے کی ٹوکن رقم پر لیز پر دستیاب کرائی جائے گی۔ پالیسی کے تحت اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور لینڈ کنورژن فیس کی بھی 100 فیصد واپسی ہوگی، جبکہ کیپیٹل گرانٹ اور سود میں معاونت کا فائدہ بھی سرمایہ کاروں کو ملے گا۔ تاہم، کیپیٹل گرانٹ اور سود کی معاونت کا کل فائدہ کسی بھی منظور شدہ منصوبے کی لاگت کے زیادہ سے زیادہ 33 فیصد تک محدود رہے گا، جس سے سرمایہ کاروں کو کافی مالی تعاون ملنے کے ساتھ مراعات کا فائدہ شفاف اور متوازن انداز میں یقینی بنایا جا سکے گا۔