جھارکھنڈ اسمبلی میں پہلا ضمنی بجٹ پیش ‘ اپوزیشن کا زبردست ہنگامہ
Awaz E Bihar••40 ویوز•4 منٹ پڑھیں
جھارکھنڈ اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن آج ایوان میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے اہم بھرتی امتحانات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے معاملے پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن اراکینِ اسمبلی کی شدید مخالفت اور نعرے بازی کے باعث وقفہ سوالات کی کارروائی پوری طرح متاثر رہی۔ بڑھتے ہنگامے کو دیکھتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے اجلاس شروع ہونے کے کچھ منٹ بعد ایوان کی کارروائی کو دوپہر 12:30 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔ اس سے پہلے ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ بی جے پی اراکینِ اسمبلی اس معاملے پر ویل میں آ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ اس دوران حزبِ اختلاف کے لیڈر بابو لال مرانڈی نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں منعقد ہونے والے تقریباً تمام مسابقتی امتحانات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11ویں سے 13ویں اور 14ویں جے پی ایس سی کے ساتھ ساتھ جے ایس ایس سی سی جی ایل، پروڈکشن کانسٹیبل اور پوسٹ گریجویٹ ٹیچر (پی جی ٹی) بھرتی امتحانات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ مسٹر مرانڈی نے کہا کہ امیدوار اس شدید بارش کے باوجود اپنے مطالبات پر سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے پورے معاملے کی جانچ عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ دہرایا۔ اپوزیشن کے اس رویے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر رادھا کرشن کشور نے کہا کہ پہلا ضمنی بجٹ پیش کیا جانا ہے اور ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر بحث کرانے پر اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ بحث و مباحثے کے دوران اپوزیشن کو اپنا موقف رکھنے کا پورا موقع ملے گا، اس لیے ایوان میں رکاوٹ ڈالنا نا مناسب ہے۔ بحث کے دوران پردیپ یادو نے سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سی آئی ڈی جانچ سے کس کو ڈر لگ رہا ہے؟ آج تو خود سی بی آئی کی غیر جانب داری اور کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اگر جانچ کرانی ہی ہے تو پہلی سے لے کر تیسری جے پی ایس سی امتحان تک کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ کانگریس اسمبلی پارٹی کے قائد مسٹر یادو نے اپوزیشن پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طلبہ کے تئیں پوری طرح حساس ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سی آئی ڈی جانچ میں اب تک 20 سے زیادہ ملزمان جیل بھیجے جا چکے ہیں، تو قائدِ حزبِ اختلاف کو سی آئی ڈی پر بھروسہ کیوں نہیں ہے؟ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ تعلیم سدیویہ کمار نے سابقہ معاملات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی اور دوسری جے پی ایس سی امتحانات میں بھی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات لگے تھے اور ان کی سی بی آئی جانچ بھی کرائی گئی تھی۔ لیکن اس جانچ کا نتیجہ کیا نکلا؟ وزیر موصوف نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دھاندلی کے ذریعے بحال ہونے والے کئی لوگوں کے رشتہ دار آج بھی سرکاری ملازمتوں میں بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج سی بی آئی کی ساکھ پر سوالات ہیں اور اپوزیشن کو پہلی سے تیسری جے پی ایس سی کی تقرریوں پر بھی اپنا موقف رکھنا چاہیے۔ محترمہ ٹرکی نے کہا کہ ریاست کے برسا کسانوں کو بینکنگ کے نظام سے جوڑنا زراعت کے شعبے میں مالی شمولیت کی سمت میں اہم پہل ہے۔ برسا کسانوں کو بینکنگ خدمات، کے سی سی نیز ضرورت کے مطابق زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے ادارہ جاتی قرض کی سہولیات سے جوڑ کر ان کی مالی رسائی اور معاشی صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بینک کی شاخوں، محکمہ زراعت اور ضلع سطح کے متعلقہ حکام کی باہمی کوششیں متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے ساتھ ساتھ مویشی پروری، ماہی پروری، باغبانی نیز دیگر متعلقہ سرگرمیاں دیہی آمدنی اور روزگار کے اہم ذرائع ہیں۔ ان شعبوں میں کام کرنے والے کسانوں اور دیہی خاندانوں تک ادارہ جاتی قرض کی رسائی بننے نیز سیلف ہیلپ گروپس اور کسان گروپس کو مالی امداد سے جوڑنے سے دیہی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ مائلٹس، لاکھ اور تسر سمیت مقامی اور روایتی زراعت پر مبنی سرگرمیوں میں ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ سے جڑے اداروں کو مالی تعاون فراہم کرنا کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور دیہی سطح پر روزگار کے مواقع کی توسیع میں معاون ہوگا۔بعد میں اسمبلی اسپیکر ربیندر ناتھ مہتو نے ایوان کی کارروائی پیر 10 اگست کو دوپہر قبل 11 بجے دن تک کے لیے ملتوی کر دی۔