کلیم اللہ کلیم کی شاعری میں فکری گہرائی، عصری شعور اور معاشرتی مسائل کا بھرپور عکس دکھائی دیتا ہے: پروفیسر توقیر عالم
Awaz E Bihar••40 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ :(اے بی این ) شفیع مشہدی ، ایس ایم پرویز عالم، پروفیسر ڈاکٹر توقیر عالم، پروفیسر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی اور نیاز احمد کو اردو زبان و ادب میں گرانقدر خدمات کیلئے کل کلیم اللہ کلیم دوست پوری لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کلیم اللہ کلیم دوست پوری اردو و ادبی کمیٹی، شاہ ارزاں کالونی، پٹنہ کے زیرِ اہتمام بہار اردو اکادمی، اشوک راج پتھ، پٹنہ کے سیمینار ہال میں معزز مہمانان کے ہاتھوں نوازہ گیا ۔ اسکے علاوہ جواں سال شاعر ڈاکٹر کامران غنی صبا، ایس ایم ارشاد عالم ، بیت اللہ بیت چھپروی اور محمد ہاشم کو بھی اردو ادب کی خدمات کیلئے حوصلہ افزائی ایوارڈ سے نوازہ گیا ۔اس سلسلے میں ایک شاندار ’’جشنِ اجرا، ایوارڈس و گلِ ہند مشاعرہ بھی ‘‘ منعقد ہوا۔۔اس موقع پر معروف شاعر کلیم اللہ دوست پوری کے شعری و تحقیقی مجموعہ ’’وقت سحر‘‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا ۔ ڈاکٹر آصف سلیم، ڈاکٹر انوارالہدیٰ ، سلطان آزاد ، ڈاکٹر ارشاد احمد، ڈاکٹر اے کے علوی، ،ڈاکٹر مسرت جہاںنے وقت سحر پر اپنا اپنا مقالہ یااظہار خیال کیا۔ پروفیسر علیم اللہ حالی نےادبی تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاعری ایک ایسی صنف ہے جو انسانی جذبات، احساسات اور زندگی کے تجربات کا مؤثر اظہار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیم اللہ کلیم کی شاعری میں فکری گہرائی، عصری شعور اور معاشرتی مسائل کا بھرپور عکس دکھائی دیتا ہے۔ علیم اللہ حالی کے مطابق کلیم کی شاعری زبان کی سادگی اور معنی کی وسعت کے باعث قارئین کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کلیم اللہ کلیم کی ادبی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے اہم سرمایہ ہے ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شمع افروزی اور تقسیمِ ایوارڈس کی تقریب ایس ایم اشرف فرید نے اس موقع پر کہا کہاردو ہماری زبان ہے، اس لیے یہ ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ یہ صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کی روشن علامت ہے۔ افسوس کہ اردو کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ آج بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور ملازمت کے میدان میں اسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں کلیم اللہ کلیم دوست پوری کی کتاب اردو زبان و ادب سے وابستگی کا ایک اہم اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ادبی ذوق کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اردو کے تئیں مصنف کی گہری محبت اور فکری وابستگی کا بھی ثبوت پیش کرتی ہے۔ کلیم اللہ کلیم نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو کی تہذیبی عظمت اور ادبی روایت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ ایسی کتابیں اردو زبان کے فروغ اور نئی نسل میں ادبی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ۔اس موقع پر گورنمنٹ اردو لائبریری کے سابق چیرمین ارشد فیروز ،اکبر رضا جمشید،پروفیسر توقیر عالم،نے بھی خطاب کیا ۔ فخرالدین عارفی نے شاندار نظامت کی ۔ پرویز عالم نے شکریہ کی رسم ادا کی ۔ شروع میں مولانا مکرم الحسینی ندوی نے قران کی تلاوت کی ۔ نثری حصہ کے اختتام پر مشاعرہ کا آغاز ہوا ۔