جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 مغربی ایشیا میں دیر پاامن  کے حق میں ہیںہندوستان-آسٹریا  : مودی
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

مغربی ایشیا میں دیر پاامن کے حق میں ہیںہندوستان-آسٹریا : مودی

Awaz E Bihar•16 اپریل، 2026 کو 03:27 PM•5 ویوز•3 منٹ پڑھیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ پوری دنیا اس وقت ایک سنگین اور کشیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر تمام ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے ماحول میں مسائل کا حل فوجی تصادم سے نہیں بلکہ مذاکرات اور امن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
وزیر اعظم مودی نے حیدرآباد ہاؤس میں آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور آسٹریا ،دونوں ہی یوکرین اور مغربی ایشیا جیسے حساس خطوں میں مستحکم، پائیدار اور دیرپا امن کے حامی ہیں۔ مودی نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں کی اصلاح ضروری ہے اور یہ کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے چانسلر اسٹاکر کے دورہ ہندوستان کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار دہائیوں کے بعد آسٹریا کے کسی چانسلر کا دورہ ہندوستان دو طرفہ تعلقات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ 2026 میں دستخط کیے گئے ہندوستان-یورپی یونین کے آزادانہ تجارتی معاہدے نے یورپی یونین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں ایک نئے باب کی نشاندہی کی ہے۔
مودی نے کہا کہ یہ دورہ تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی تحریک فراہم کرے گا۔ ہندوستان کی ’’رفتار اور پیمانے‘‘ اور آسٹریا کی ’’مہارت‘‘ کو مربوط کرکے عالمی سطح پر قابل اعتماد ٹیکنالوجی اور سپلائی چین تیار کی جائے گی۔ دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی اور بایو ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آسٹریا کی یونیورسٹی آف مونٹجن کے درمیان ہوا یہ معاہدہ اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 2023 میں دستخط شدہ مائیگریشن اینڈ موبیلٹی ایگریمنٹ نرسنگ کے شعبے میں نقل و حرکت کو فروغ دے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپ اور تحقیقی تعاون کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے انڈیا-آسٹریا ورکنگ ہالیڈے پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
مودی نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ دہلی میٹرو اور اٹل ٹنل جیسے پروجیکٹوں میں آسٹریا کی سرنگ کی مہارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماحول دوست توانائی اور شہری ترقی کے شعبوں میں بھی آسٹریا کی کمپنیاں ہندوستان کی ترقی میں فعال رول ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ چانسلر اسٹاکر کا دورہ ہندوستان-آسٹریا تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔

شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026