جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بڑی کارروائی، دہرادون- ہلدوانی سمیت اب تک 20 ادارے بند
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بڑی کارروائی، دہرادون- ہلدوانی سمیت اب تک 20 ادارے بند

Awaz E Bihar•6 ستمبر، 2026 کو 09:44 AM•12 ویوز•3 منٹ پڑھیں

اتراکھنڈ حکومت نے مقررہ منظوری اور تعلیمی معیار پر عمل نہ کرنے والے مدارس کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود اور مقامی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیموں نے ریاست کے دہرادون اور ہلدوانی میں ایسے کئی مدارس کو سیل کیا ہے، جو غیر منظور شدہ تھے۔ خبر کے مطابق اب تک 20 مدارس کو مکمل طور پر بند کرا دیا گیا ہے۔
اتراکھنڈ کے محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود کے خصوصی سکریٹری پراگ مدھوکر دھکاتے کے مطابق دہرادون کے 3 مدارس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کالونی میں واقع مدرسہ جامعۃ السلام الاسلامیہ کو انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے۔ وہیں آزاد کالونی (ماجرا) میں واقع مدرسہ دارالارقم اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کی انتظامیہ نے تحریری طور پر مدرسہ بند کرنے کی اطلاع دی ہے۔ دھکاتے نے کہا کہ ریاست میں اب تک 17 مدارس کو سیل کیا جا چکا ہے، جبکہ 3 دیگر مدارس کی انتظامیہ نے مدرسہ بند کرنے کی تحریری اطلاع دی اور تصدیق کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں کل 20 غیر منظور شدہ مدارس کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نینی تال ضلع کے ہلدوانی میں بھی 2 غیر منظور شدہ مدارس کو سیل کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔ یہاں گوجاجلی شمال میں شنی بازار روڈ پر واقع مدرسہ جامعہ نوریہ برکاتے امینہ اور اندرا نگر، بنبھول پورہ میں واقع ایک دیگر غیر منظور شدہ مدرسے کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
ہلدوانی نگر مجسٹریٹ اے بی واجپئی نے بتایا کہ متعلقہ مدرسہ انتظامیہ سے منظوری سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ضروری دستاویزات پیش نہ کیے جانے پر اصول و ضوابط کے مطابق سیل کرنے کی کارروائی کی گئی۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سخت ہدایات دی ہیں کہ ریاست میں کوئی بھی تعلیمی ادارہ مقررہ قوانین اور منظوری سے متعلق ضروریات کو پورا کیے بغیر نہیں چلنا چاہیے۔ ریاست میں نافذ نئے نظام کے تحت حکومت کا مقصد اقلیتی تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کو سختی سے نافذ کرتے ہوئے بچوں کے لیے جدید اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ دھامی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بچوں کے مستقبل یا تعلیم کے معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026