گورنر نے ایم ایل سی نامزد کردیا ‘سپریم کورٹ کے سوالات اور اپوزیشن کے حملوں کے درمیان حکومت نے نکالا راستہ، دیویش کمار کے استعفے کے بعد خالی نشست پر نامزدگی، مارچ 2027 تک رہے گی رکنیت‘ اپندر کشواہا خوش
پٹنہ، 5 اگست (اے بی این): بہار حکومت کے وزیر پنچایتی راج دیپک پرکاش کے وزیر کے عہدے پر منڈلا رہا آئینی بحران بالآخر ختم ہو گیا۔ ریاستی گورنر نے انہیں بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کا رکن نامزد کر دیا ہے۔ راج بھون کی جانب سے جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد ان کے وزیر کے عہدے کی آئینی حیثیت پر اٹھنے والے تمام قانونی اور سیاسی سوالات ختم ہو گئے ہیں۔ نامزدگی کی خبر سامنے آتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں اور ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔دیپک پرکاش گزشتہ چھ ماہ سے کسی بھی ایوان کے رکن بنے بغیر وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ آئین کے مطابق کسی بھی وزیر کے لیے حلف لینے کے چھ ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا لازمی ہوتا ہے، ورنہ وزارت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی بنیاد پر اپوزیشن مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھی اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے بھی ان کے وزیر رہنے کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔آئینی پیچیدگی کو ختم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے فوری قدم اٹھایا۔ قانون ساز کونسل کے رکن دیویش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ریاستی کابینہ کی سفارش پر گورنر نے خالی ہونے والی نشست پر دیپک پرکاش کو قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کر دیا۔اس نامزدگی کے ساتھ ہی حکومت نے ممکنہ آئینی بحران پر قابو پا لیا ہے اور وزیر کے عہدے سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔ تاہم، چونکہ دیپک پرکاش کو دیویش کمار کی خالی کی گئی نشست پر نامزد کیا گیا ہے، اس لیے وہ مارچ 2027 تک ہی قانون ساز کونسل کے رکن رہیں گے، جس کے بعد دوبارہ انتخاب یا نامزدگی کی ضرورت ہوگی۔