مودی کا اپوزیشن پر تنقید- کچھ لوگ ہندوستان کا بھلائی نہیں سوچ سکتے
Awaz E Bihar••22 ویوز•12 منٹ پڑھیں
نئی دہلی، 15 اگست : وزیراعظم نریندر مودی نے کسی کا نام لیے بغیر اپوزیشن پر تنقید کی اور کہا کہ کچھ لوگ ملک کی ترقی دیکھ نہیں سکتے اور ہندوستان کا بھلا نہیں سوچ سکتے اس لیے وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ملک سے خطاب کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان کے پاس حکومت، متحرک جمہوریت اور سبھی کی رہنمائی کرنے والا آئین ہے اور اس کی بنیاد پر ملک عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو ترقی دیکھ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ "کچھ لوگ ہندوستان کا بھلا سوچ نہیں سکتے ہیں۔ ملک کو ایسے لوگوں سے بچنا ہوگا۔ ایسے مٹھی بھر لوگ مایوسی کے غار میں ڈوبے ہوئے ہیں اور جب ان کی گود میں خرابی پلتی ہے تو وہ تباہی اور بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسے چھوٹے موٹے مایوس کن عناصر کو سمجھنا چاہیے۔" انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس مستحکم سیاسی عوامی مینڈیٹ، مستحکم حکومت، متحرک جمہوریت، مضبوط عدالتی نظام اور سبھی کی رہنمائی کرنے والا آئین ہے۔ اس کے باوجود ابھی ملک میں سیاسی شراکت داری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ ایسے ایک لاکھ نوجوان سیاست میں آئیں، جن کے خاندان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ یہ نوجوان کسی بھی سیاسی جماعت میں جا سکتے ہیں اور اس سے ملک کی جمہوریت اور مضبوط ہوگی۔ مسٹر مودی نے اس موقع پر سیکیولر یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سمت میں ریاستی حکومتوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ یکساں سول کوڈ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا پرانا معاملہ رہا ہے۔ خواتین کے تحفظات کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ "میں قومی پرچم کے نیچے کھڑا ہو کر اپوزیشن جماعتوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ وہ خواتین کے لیے قانون ساز اسمبلیوں میں تحفظات کے نظام کو نافذ کرنے میں تعاون کریں۔" ایک سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی ہنرمندی کی ملے گی تربیت: وزیراعظم نئی دہلی، 15 اگست (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آئندہ ایک سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ہنر مندی کی تربیت دی جائے گی تاکہ ہمارے ملک کا نوجوان اے آئی کی دنیا میں قیادت کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکے۔ مسٹر مودی نے ہفتہ کو یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے شعبے میں کئی اہم اعلانات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ایک سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی، تاکہ ہندوستان کے نوجوان اس تیز رفتاری سےابھرتے ہوئے شعبے میں آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 35 سال بعد ملک میں نئی تعلیمی پالیسی لے کر آئے ہیں، جس کا فائدہ متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سال 2004 سے 2014 کے درمیان ملک میں یونیورسٹیوں کی تعداد 350 سے بھی کم تھی، آج 12-10 سال کے اندر اندر 650 نئی یونیورسٹیاں کھل چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے میڈیکل ایجوکیشن کے صرف چار سو کالج ہوا کرتے تھے، آج تقریباً 850 کالج ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں غیر ملکی یونیورسٹیاں بھی آ رہی ہیں۔ ملک کے نوجوانوں کو غیر ملکی تعلیمی اداروں سے ڈگری ملے، اس کا بھی انتظام ہو چکا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہمارے ملک کے نوجوان کا ذہن بچپن سے ہی ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہو، اس سمت میں کام کر رہے ہیں، اسی لیے ملک میں 10 ہزار سے زیادہ اٹل ٹنکرنگ لیب چھوٹے چھوٹے بچوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، تاکہ ان کا اختراع اور ٹیکنالوجی کی طرف رجحان پیدا ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم، ہنر مندی، اسٹارٹ اپ اور نئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ہو رہی توسیع سے ملک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر وکست بھارت کی تعمیر میں تعاون دینے کی اپیل کی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے 'شانتی بل' منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔" بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔" انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔ بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم نئی دہلی، 15 اگست (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں 'ناگرک دیوو بھو' کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ 'پیش گوئی کرنے والوں' نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ 'ناگرک دیوو بھو' کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، ...وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ 'نو گو ایریا' (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے 'گو اہید ایریا' کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ "میک ان انڈیا"، "ووکل فار لوکل" جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔ سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں 'ناگرک دیوو بھو' کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ 'پیش گوئی کرنے والوں' نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ 'ناگرک دیوو بھو' کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، ...وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ 'نو گو ایریا' (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے 'گو اہید ایریا' کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ "میک ان انڈیا"، "ووکل فار لوکل" جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔ سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔