خصوصی اراضی سروے کی سست رفتاری پر حکومت سخت 15 دن میں مانگا ایکشن پلان
Awaz E Bihar••27 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ:(اے بی این ) ریاست میں جاری خصوصی اراضی سروے کی سست رفتاری پر محکمہ محصولات و اصلاحاتِ اراضی نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ محکمہ جاتی جائزہ اجلاس میں وزیر ڈاکٹر دلیپ کمار جیسوال نے واضح کیا کہ سروے میں محض مقررہ ہدف پورا کرنا کافی نہیں، بلکہ رَیّتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے زمینی ریکارڈ کی درستگی اور کام کی بروقت تکمیل دونوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کم پیش رفت والے اضلاع اور انچلوں کا الگ جائزہ لینے کے ساتھ آئندہ 15 دن کا خصوصی ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت دی۔وزیر نے کہا کہ اراضی سروے محض زمین کی پیمائش کا عمل نہیں، بلکہ صحیح رَیّت، صحیح خسرہ، صحیح رقبہ اور درست زمینی ریکارڈ تیار کرنے کا اہم عمل ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ سروے ایسا ہونا چاہیے جس پر ریاست کے زمین مالکان اعتماد کر سکیں۔ ڈاکٹر جیسوال نے ہدایت دی کہ مقررہ ہدف کے مطابق کام نہ کرنے والے اضلاع اور انچلوں کی نشان دہی کرکے ان کا الگ جائزہ لیا جائے۔ متعلقہ افسران سے سست رفتاری کی وجوہات طلب کی جائیں اور بہتری کے لیے واضح مدت کے ساتھ خصوصی منصوبہ تیار کیا جائے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ بغیر معقول وجہ کے مسلسل ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران اور ملازمین ذمہ داری سے نہیں بچ سکیں گے۔ ایسے معاملات میں جواب دہی طے کرکے ضروری کارروائی کی جائے گی، جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ خصوصی اراضی سروے کی زمینی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے اب ہر پیر کو نوڈل افسر تمام اضلاع کی موضع وار پیش رفت رپورٹ محکمہ کو فراہم کریں گے۔ ہر موضع میں سروے کس مرحلے تک پہنچا، اس کی تازہ اور واضح معلومات محکمہ کے پاس موجود رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔خود اعلانیہ، خانہ پُری، نقشہ، مسودے کی اشاعت، دعویٰ و اعتراض اور حتمی اشاعت سمیت سروے کے ہر مرحلے میں زیر التوا کام کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ اس سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کس ضلع یا انچل میں کام کس سطح پر رکا ہوا ہے اور تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔ وزیر نے واضح کیا کہ ہدف حاصل کرنے کی جلدبازی میں زمینی ریکارڈ کی صحت و درستگی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے۔ رَیّت کا نام، خسرہ، رقبہ، حدودِ اربعہ اور دستیاب دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ ضروری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ درست سروے ہی رَیّت کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ سروے کی ایک معمولی غلطی بھی مستقبل میں بڑے اراضی تنازع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے رفتار کے ساتھ معیار اور شفافیت پر یکساں توجہ دینا ضروری ہے۔ڈاکٹر جیسوال نے کہا کہ درست اراضی سروے ریاست میں خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ زمین سے متعلق تنازعات جرائم اور کشیدگی کا بھی سبب بنتے ہیں، اس لیے درست ریکارڈ کی تیاری انتہائی اہم ہے۔ محکمہ کے سکریٹری جے سنگھ نے اعداد و شمار کی بنیاد پر تمام اضلاع کے بندوبست افسران سے پیش رفت کا جائزہ لیا اور مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے زیر التوا دعوؤں اور اعتراضات کی افسر وار فہرست تیار کرکے پرانے معاملات کو ترجیحی بنیاد پر نمٹانے کی ہدایت دی۔تکنیکی مسائل کو فوری طور پر دور کرنے اور ڈیش بورڈ کے ذریعے ہفتہ وار نگرانی کی بھی ہدایت دی گئی۔ ڈیش بورڈ میں ضلع و انچل وار ہدف، حصولیابی، زیر التوا معاملات اور تاخیر کی وجوہات درج ہوں گی۔ لاپروائی برتنے والے ملازمین کی تفصیلات بھی شامل کی جائیں گی تاکہ پیش رفت کے ساتھ جواب دہی بھی طے ہو سکے۔سکریٹری نے فیلڈ میں افسران و ملازمین کی موجودگی یقینی بنانے اور مواضعات میں کیمپ لگا کر لوگوں کے مسائل حل کرنے کی بھی ہدایت دی۔اجلاس میں ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر مہندر پال، ڈپٹی ڈائریکٹر مونا جھا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سبودھ کمار، او ایس ڈی انوپم پرکاش، اسسٹنٹ ڈائریکٹر و تعلقاتِ عامہ افسر جوہی کماری، آشوتوش کمار، اسسٹنٹ سیٹلمنٹ افسر انوجا سنہا، پلوی سمیت محکمہ کے دیگر افسران موجود تھے۔