'ہر گھر ترنگا مہم' میں بہار کے عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیں: سمراٹ چودھری
Awaz E Bihar••11 ویوز•3 منٹ پڑھیں
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں 'ہر گھر ترنگا مہم-2026' کے تحت پیر کے روز جے پی گولمبر سے کارگل چوک تک ایک شاندار 'ترنگا یاترا' نکالی گئی۔ آرٹ اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ (محکمہ آرٹ و ثقافت) کے زیر اہتمام منعقدہ اس ترنگا یاترا پروگرام کا گاندھی میدان میں وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری نے شمع روشن کر کے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے باقاعدہ افتتاح کیا۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں نکلنے والی اس ترنگا یاترا میں 'بھارت ماتا کی جے' کے نعروں، وطنی ترانوں کی گونج کے درمیان بہار حکومت کے وزراء، اراکینِ اسمبلی، اراکینِ قانون ساز کونسل، اسکولوں کے طلبہ و طالبات اور عام لوگوں کی بڑی تعداد نے پرجوش انداز میں شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیر اعلیٰ نیتش کمار کی رہنمائی میں بہار میں ترنگا یاترا کا آغاز ہوا ہے، جو 17 اگست تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا صرف تین رنگوں کا پرچم نہیں ہے، بلکہ ہمارے آباؤ اجداد اور مجاہدینِ آزادی نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ملک کو آزادی دلائی ہے۔ ترنگا ان کی ایثار، قربانی اور ہمارے قومی فخر کی علامت ہے۔ یہ ملک کی سالمیت، خودمختاری، اتحاد، جمہوریت اور خودداری کی پہچان ہے۔ مسٹر چودھری نے کہا کہ ترنگے کے احترام اور ملک کی حفاظت کے لیے لاکھوں بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگے کے تینوں رنگوں کی اپنی اہمیت ہے۔ کیسریا رنگ ہمت، ایثار اور قربانی کی، سفید رنگ امن کی اور ہرا رنگ خوشحالی کی علامت ہے۔ ہندوستان امن کا حامی ہے، لیکن ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر مودی ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں اور ہندوستان آج دنیا کی اہم معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور بااختیار ملک بنانے کا عزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'ہر گھر ترنگا مہم' عوامی شرکت کا پروگرام ہے۔ پورے بہار کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ پنچایت، شہری بلدیاتی اداروں اور ضلع کی سطح پر بھی اس مہم کے تحت مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔