اہل وطن دستکاری کی حوصلہ افزائی کر کے’ووکل فار لوکل‘ کو فروغ دیں : مودی
Awaz E Bihar••22 ویوز•6 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہتھ کرگھہ کے قومی دن کو ملک کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی علامت قرار دیتے ہوئے اہل وطن سے دستکاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور 'ووکل فار لوکل‘ کے جذبے یعنی دیسی مصنوعات کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔مسٹر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں کہا کہ 7 اگست کو ملک ہتھ کرگھہ کا قومی دن منا رہا ہے۔ اس دن ہم بنکروں کی ہنرمندی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا جشن مناتے ہیں کیونکہ یہ نسل در نسل چلی آرہی روایتوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہتھ کرگھے سے بنا ہر لباس کسی نہ کسی علاقے، برادری اور اس سے جڑے ان گنت لوگوں کی کہانی کو سامنے لاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو فخر کے ساتھ ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو سنبھالنے میں مصروف ہیں۔ آج کے دن میری گزارش ہے کہ ہم دستکاری کی حوصلہ افزائی کر کے، اپنے بنکر ساتھیوں کا احترام کریں۔ آئیے، ہم ووکل فار لوکل کے جذبے کو اور مضبوط بنائیں۔" انہوں نے ملک میں ہتھ کرگھے کو فروغ دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگی بہتر ہو رہی ہے۔ پوچم پلی سے پٹنہ اور کتھم پلی سے کچھ تک اس کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آج ایسے کئی لوگ اور گروپ ہیں، جو ہتھ کرگھے کی ہماری شاندار روایت کو نئی توانائی اور پہچان دے رہے ہیں۔ کوئی 'پوچم پلی اکت' کی خوبصورت روایت کو آگے بڑھا رہا ہے، تو کوئی خاتون بنکروں کو جوڑ کر اونی مصنوعات بنا رہا ہے۔ کچھ لوگ کیرل کی روایتی 'کساوو فن‘ کو محفوظ کر رہے ہیں۔ اس سے ہماری ماؤں اور بہنوں کو روزگار بھی مل رہا ہے۔" کھادی کی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں 'کھادی‘ کافی مقبول ہوئی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں اس کی فروخت چھ گنا بڑھی ہے۔ فروخت کے یہ اعداد و شمار اب 8000 کروڑ روپے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میری آپ سبھی سے اپیل ہے کہ آنے والے تہوار میں 'کھادی‘ کی کوئی نہ کوئی، ہتھ کرگھے کی کوئی نہ کوئی، دستکاری کی کوئی نہ کوئی مصنوعات ضرور خریدیں۔" انہوں نے کشمیر کی روایتی اور منفرد چٹائی 'ووگو‘ کے تعلق سے کی جا رہی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کے موافق اس چٹائی کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے گرمیوں میں ٹھنڈک اور سردیوں میں گرمائی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر کے غلام حسین اور ان کی بیٹی تنزیلہ 'ووگو‘ کی روایت کو ایک نئی زندگی دینے میں مصروف ہیں۔ اب ان کی اس کوشش سے متعدد لوگ جڑتے چلے گئے اور اب یہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے نیز 'ووگو‘ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پہنچ رہا ہے۔ مسٹر مودی نے اتر پردیش کے بجنور ضلع کے لکھی والا گاؤں میں سیلف ہیلپ گروپ سے جڑی خواتین کی 'ودور پریرنا سودی لائن ہربل ٹی‘ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں لیمن گراس، گلوئے، ملیٹھی، تلسی، کچی ہلدی، دارچینی، الائچی اور سونف جیسی قدرتی اشیاء شامل ہیں اور اپنے منفرد ذائقے اور خصوصیات کی وجہ سے اس چائے نے بہت کم وقت میں لوگوں کے درمیان خاص پہچان بنا لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ برانڈ اب ملک کے بڑے اداروں تک پہنچ چکا ہے۔ وزیر اعظم نے تریپورہ کی قبائلی برادری میں مقبول روایتی ساز 'چونگ پرینگ‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سورج کمار دیو ورما کی کوششوں سے یہ روایتی ساز وہاں کے نوجوانوں میں مقبول ہو رہا ہے۔ یہ نوجوان اب چونگ پرینگ کے ساتھ ہی وہاں کے دیگر روایتی سازوں پر بھی فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیر زمین پانی کی ریچارجنگ، پرانے تالابوں کی بحالی اور شجر کاری کو نئی رفتار دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مہم میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی شراکت داری پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ کہیں پرانے تالابوں سے مٹی نکالی جا رہی ہے، تو کہیں کنوؤں اور باؤلیوں کی بحالی کی جا رہی ہے۔ جو بورویل اب استعمال میں نہیں ہیں، انہیں زیر زمین پانی کی ریچارجنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع، مہاراشٹر کے ناسک، آندھرا پردیش کے نند یال، چھتیس گڑھ کے کوربا، اڈیشہ کے بھوبنیشور اور آندھرا پردیش کے وجیا نگرم میں تالابوں کو پھر سے زندہ کرنے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ "آئیے، ہم بھی اپنے آس پاس کسی ایک تالاب، کنویں یا باؤلی کی ذمہ داری لیں - پانی کی ہر بوند بچائیں۔ آج بچائی گئی ہر بوند، آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔" وزیر اعظم نے بہار کے سیتامڑھی میں ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں کی جا رہی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کچرے سے نپٹنے کے لیے مقامی لوگوں نے انتظامیہ کی مدد سے کچرے کی ری سائیکلنگ کر کے اس سے پرکشش بینچ بنانے کا کام شروع کیا ہے۔ ایک بینچ تیار کرنے میں تقریباً 40 کلوگرام پلاسٹک استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ مضبوط، پائیدار اور آرام دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول کو نقصان سے بھی بچاتی ہے۔ اسے سرکاری اسکولوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر لگایا جاتا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ اس کے ذریعے لوگوں میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بیداری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس کوشش میں مقامی اکائی کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کا اہم رول ہے۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ 'ایک پیڑ ماں کے نام' مہم کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے اس سے جڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ احمد آباد کے بھاڑج علاقے میں ایک گھنٹے کے اندر ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ پودے لگائے گئے۔ پچیس ہزار سے زیادہ اسکول کے بچوں، این سی سی کیڈٹس، رضاکاروں اور عام شہریوں کی یہ کوشش گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج کی گئی ہے۔ آنے والے سالوں میں یہی پودے ایک گھنے شہری جنگل کی شکل اختیار کرلیں گے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اتر پردیش میں بھی اس مہم کے تحت ایک ہی دن میں 12 جولائی کو 35 کروڑ سے زیادہ پودے لگائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کا ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ناطے یہ ان کے لیے خاص فخر کی بات ہے۔ پیڑ صرف انسانوں کے لیے نہیں ہوتے، وہ ان گنت جانداروں کے گھر بھی ہوتے ہیں۔ مسٹر مودی نے گجرات کے گر کے جنگلات میں تقریباً 60 سال بعد انڈین گرے ہارن بل کی واپسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ گر میں سالوں سے ہو رہی تحفظ اور بحالی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہارن بل کو جنگلوں کا کسان کہا جاتا ہے۔ وہ پھل کھاتے ہیں اور بیجوں کو دور دور تک پہنچاتے ہیں۔ انہی بیجوں سے جنگل میں نئے پیڑ اگتے ہیں۔ اس طرح وہ جنگل کو پھر سے ہرا بھرا بنانے میں مدد کرتے ہیں۔