پٹنہ:28/ستمبر(پریس ریلیز)راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی) کے کارگزار صدر اور قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے نام پر ملک بھر بالخصوص بی جے پی اور این ڈی اے اتحاد کی حکومتوں والی ریاستوں میں مساجد، مدارس اور مزارات کو نشانہ بنائے جانے کی مہم پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے اور ملک کے جمہوری و آئینی ڈھانچے کے ساتھ کھلا کھلواڑ قرار دیا ہے۔اپنے ایک خصوصی بیان میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آڑ میں اقلیتوں کی صدیوں پرانی عبادت گاہوں پر بلڈوزر چلانا کسی بھی مہذب معاشرے اور جمہوری نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کا انہدام آئین، جمہوریت اور مذہبی آزادی کے لیے سنگین سوال ہے۔ انتظامیہ نے اسے سرکاری زمین پر غیر مجاز تعمیر قرار دیا، تاہم اس کارروائی کے قانونی طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنبھل اور غازی آباد میں مساجد و مدارس، مظفرنگر میں مدرسے، مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کے ایک حصے، اتراکھنڈ میں مزارات، گجرات میں مزارات، آسام میں مسجد، دہلی میں مسجد و مدرسہ، مہاراشٹر، راجستھان اور تلنگانہ میں بھی مذہبی مقامات سے متعلق انہدامی کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔تیجسوی یادو نے کہا کہ مسجد ہو، مندر ہو، چرچ ہو، گرجا گھر ہو، مزار ہو یا مدرسہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ سرکاری زمین یا غیر مجاز تعمیر کا دعویٰ ریاست کو آئین اور قانونی طریقۂ کار سے بالاتر نہیں کرتا۔ مذہبی مقامات کے تنازعات کا حل بلڈوزر نہیں، بلکہ آئین، قانون اور عدالت ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی یا غیر قانونی تعمیرات کا بہانہ بنا کر راتوں رات تاریخی اور مذہبی مقامات کو مسمار کرنا کوئی انتظامی کارروائی نہیں، بلکہ ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت اقلیتی برادری کو خوف و ہراس کا شکار بنانے کی دانستہ کوشش ہے۔ تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ ہندوستان ایک آئینی جمہوریت ہے، جہاں ریاستی طاقت بھی آئین اور قانون کی پابند ہے۔ کسی مسجد، مزار، مدرسے، مندر، چرچ، گرجا گھر یا کسی بھی مذہبی و عبادتی مقام کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ سرکاری زمین پر قائم ہے یا غیر مجاز تعمیر ہے، بذاتِ خود اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ بغیر قانونی کارروائی، شفاف سماعت اور مؤثر قانونی تحفظ کے اسے منہدم کر دیا جائے۔ ملکیت یا تجاوزات کا تنازع کسی بھی مذہبی مقام سے متعلق ہو، ریاستی اداروں کو یکساں قانونی معیار اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کارروائی کرنا لازم ہے۔آئینِ ہند کا آرٹیکل 14 قانون کے سامنے مساوات اور مساوی قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے،آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کو قانونی طریقۂ کار سے جوڑتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 آزادیِ ضمیر اور مذہبی عمل کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے ریاستی کارروائی کا معیار مذہبی شناخت نہیں بلکہ قانون، آئین، شفافیت اور جمہوری ہونا چاہیے۔کسی بھی مذہبی مقام خواہ وہ مسجد ہو یا مندر، مزار ہو یا چرچ، مدرسہ ہو یا کوئی دوسرا عبادتی مقام کے خلاف کارروائی میں ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کارروائی قانونی اختیار، مناسب نوٹس، مؤثر سماعت اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت کی جا رہی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی مذہبی مقام کے بارے میں تنازع کا فیصلہ قانون کے مطابق ہو، طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں۔تیجسوی یادو نے بی جے پی کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ملک کا آئین ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ لیکن موجودہ حکمراں جماعت قانون کی بالادستی کو بالائے طاق رکھ کر یکطرفہ کارروائیاں کر رہی ہے، جس سے نہ صرف سیکولرازم کے اصولوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک کے جمہوری تشخص کو بھی ٹھیس پہنچ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ راشٹریہ جنتا دل سماجی انصاف، جمہوری اقدار اور تمام مذاہب کے احترام کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی اس ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں رہے گی اور مظلوم طبقات کے آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے دفاع کے لیے پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک ہر محاذ پر مضبوطی سے آواز بلند کرتی رہے گی۔تیجسوی یادو نے عدلیہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور تجاوزات کے نام پر کیے جانے والے اس امتیازی سلوک اور آئین کی پامالی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائیں۔