قومی وقار کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل پر پارلیمنٹ کی مہر
Awaz E Bihar••23 ویوز•5 منٹ پڑھیں
قومی ترانے "وندے ماترم" کی توہین پر سزا کی فراہمی سے متعلق قومی وقار کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل 2026 جمعرات کو لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے بھی منظوری حاصل کر گیا۔ اس بل کو راجیہ سبھا بدھ کے روز صوتی ووٹ سے منظور کر چکی تھی۔ تین مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جب سہ پہر 3:30 بجے لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس دوران قائم مقام اسپیکر سندھیا رائے نے ہنگامے کے بیچ ہی بل کو ایوان میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا۔ دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کی رکن کے کنیموژی نے شدید مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو جمہوریت مخالف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل وفاقی نظام (فیڈرلزم) کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایوان میں نظم و ضبط ہی نہیں ہے تو وہ اپنی بات کیسے رکھ سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بل پر باقاعدہ بحث ہونی چاہیے۔ کنیموژی نے الزام لگایا کہ حکومت اس بل کے ذریعے ملک میں پولرائزیشن پیدا کرنا چاہتی ہے اور تمل عوام کی توہین کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ بل ملک کو تقسیم کرنے والا ہے، یہ قوم پرستی نہیں بلکہ جمہوریت کے خلاف اقدام ہے، اور حکومت کو ریاستوں کی رائے بھی سننی چاہیے۔ بی جے پی کے رکن سمبت پاترا نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے "وندے ماترم" کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے تاکہ لوگ بلا خوف و رکاوٹ قومی ترانے اور قومی نغمے کا احترام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اتنے اہم بل پر بحث کے دوران بھی ایوان میں ہنگامہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1950 میں دستور ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے یقین دہانی کرائی تھی کہ "جن گن من" اور "وندے ماترم" دونوں کو یکساں احترام حاصل ہوگا، لیکن ان کے مطابق گزشتہ 76 برسوں میں کانگریس حکومتوں نے اس وعدے پر عمل نہیں کیا۔ بل پر مختصر بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ یہ محض ایک قانونی ترمیم نہیں بلکہ بھارت کی روح، ثقافتی ورثے، قومی شعور اور آزادی کی جدوجہد کے احترام کے تئیں اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1971 کے قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ کے تحت جس طرح قومی ترانے "جن گن من" کو قانونی تحفظ حاصل ہے، اسی طرح کا احترام 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے "وندے ماترم" کے لیے بھی یقینی بنانے کی بات کہی تھی۔ نتیانند رائے نے کہا کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے نے جب "وندے ماترم" تخلیق کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ شاید وہ اس کے اثرات اپنی زندگی میں نہ دیکھ سکیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب پورا ملک اسے اپنے لبوں پر سجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم نریندر مودی اس خواب کو حقیقت کا روپ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وندے ماترم" ایک بھارت، شریشٹھ بھارت اور وکست بھارت کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے سوامی وویکانند کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ اکیسویں صدی بھارت کی ہوگی اور بھارت صرف اقتصادی طاقت ہی نہیں بلکہ روحانی اور انسانی اقدار کی بنیاد پر دنیا کا رہنما بنے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ سوامی وویکانند کا بچپن کا نام بھی نریندر تھا، اس لیے "ایک نریندر نے پیش گوئی کی تھی اور دوسرے نریندر اسے پورا کر رہے ہیں۔" قابل ذکر ہے کہ یہ بل 1971 کے قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ میں ترمیم کرتا ہے۔ اس قانون میں قومی پرچم، آئین اور قومی ترانے کی توہین پر سزا کی گنجائش موجود ہے۔ ترمیم کے بعد قومی نغمہ "وندے ماترم" کی توہین یا اس کی ادائیگی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنا بھی قابل سزا جرم ہوگا، جس پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ بل ہنگامے کے درمیان منظور کر لیا گیا، جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ نتیانند رائے نے کہا کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے نے جب "وندے ماترم" تخلیق کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ شاید وہ اس کے اثرات اپنی زندگی میں نہ دیکھ سکیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب پورا ملک اسے اپنے لبوں پر سجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم نریندر مودی اس خواب کو حقیقت کا روپ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وندے ماترم" ایک بھارت، شریشٹھ بھارت اور وکست بھارت کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے سوامی وویکانند کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ اکیسویں صدی بھارت کی ہوگی اور بھارت صرف اقتصادی طاقت ہی نہیں بلکہ روحانی اور انسانی اقدار کی بنیاد پر دنیا کا رہنما بنے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ سوامی وویکانند کا بچپن کا نام بھی نریندر تھا، اس لیے "ایک نریندر نے پیش گوئی کی تھی اور دوسرے نریندر اسے پورا کر رہے ہیں۔" قابل ذکر ہے کہ یہ بل 1971 کے قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ میں ترمیم کرتا ہے۔ اس قانون میں قومی پرچم، آئین اور قومی ترانے کی توہین پر سزا کی گنجائش موجود ہے۔ ترمیم کے بعد قومی نغمہ "وندے ماترم" کی توہین یا اس کی ادائیگی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنا بھی قابل سزا جرم ہوگا، جس پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ بل ہنگامے کے درمیان منظور کر لیا گیا، جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔