
صفائی ملازمین کے ہڑتال سے شہر میں کچروں کاانبار
Awaz E Bihar••23 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 4 اگست (اے بی این): پٹنہ میونسپل کارپوریشن کے صفائی کارکنوں کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال نے دارالحکومت میں صفائی کے نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے کچرا نہ اٹھائے جانے کے باعث شہر کے بیشتر علاقوں، اہم شاہراہوں، بازاروں، رہائشی کالونیوں، گلی محلوں، سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر کوڑا کرکٹ کے بڑے بڑے ڈھیر جمع ہو گئے ہیں۔ تعفن اور بدبو سے شہریوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے جبکہ گندگی کے باعث ڈینگو، ملیریا، ہیضہ اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
بارش کے باعث صورتِ حال مزید خراب ہو گئی ہے۔ جگہ جگہ کچرا نالیوں میں جمع ہونے سے پانی کی نکاسی متاثر ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں گندا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ بازاروں اور رہائشی علاقوں میں پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ گندگی اور بدبو کے باعث گاہکوں کی آمد کم ہو گئی ہے، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ گھروں سے نکلنے والا کچرا سڑکوں کے کنارے جمع ہوتا جا رہا ہے، مگر اسے اٹھانے والا کوئی نہیں۔ کئی مقامات پر آوارہ مویشی اور کتے کچرے کو مزید پھیلا رہے ہیں، جس سے ماحول انتہائی آلودہ ہو گیا ہے۔ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی صورتِ حال چند روز اور برقرار رہی تو شہر کو صحت عامہ کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب صفائی بحران کے خاتمے کے لیے پٹنہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مسلسل میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو میئر محترمہ سیتا ساہو کی صدارت اور میونسپل کمشنر یشپال مینا کی موجودگی میں پٹنہ میونسپل کارپوریشن مشترکہ ملازمین یونین کے نمائندوں کے ساتھ اہم میٹنگ ہوئی، جس میں یونین کے تین نکاتی مطالبات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔میئر نے یقین دہانی کرائی کہ کارپوریشن صفائی کارکنوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور ان کے مطالبات کو بااختیار مستقل کمیٹی اور کارپوریشن کونسل کے ذریعے ریاستی حکومت کو سفارشات کے ساتھ بھیجا جائے گا۔ تاہم چونکہ مطالبات پر حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اس لیے فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ مذاکرات کے باوجود ہڑتال ختم کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
صفائی کے بحران نے شہریوں میں حکومت اور انتظامیہ کے خلاف ناراضگی پیدا کر دی ہے۔ مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے کہا کہ حکومت اور میونسپل انتظامیہ صرف اجلاسوں اور یقین دہانیوں تک محدود ہے، جبکہ زمینی سطح پر حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتِ حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔سماجی کارکنوں اور شہری تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی کارکنوں کے جائز مطالبات پر فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ ہڑتال ختم ہو اور صفائی کا نظام معمول پر واپس آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تعطل کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
شہر میں کچرے کے بڑھتے ہوئے ڈھیر، تعفن، آلودگی اور عوامی ناراضگی نے میونسپل انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اگر آئندہ ایک دو دن میں ہڑتال ختم نہ ہوئی تو صفائی کا بحران مزید سنگین ہونے کے ساتھ صحت عامہ کا مسئلہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔ شہریوں کی نظریں اب حکومت اور میونسپل انتظامیہ کے اگلے فیصلے پر مرکوز ہیں اور وہ جلد از جلد صفائی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مسلسل بارش کے باعث سڑکوں اور گلیوں میں جمع کچرے سے شدید تعفن پھیلنے لگا ہے۔ گندگی اور بدبو نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اگر جلد صفائی کا انتظام نہ کیا گیا تو ڈینگو، ملیریا، ہیضہ اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بروقت کچرا نہ اٹھایا گیا تو صحتِ عامہ کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
بارش کے باعث صورتِ حال مزید خراب ہو گئی ہے۔ جگہ جگہ کچرا نالیوں میں جمع ہونے سے پانی کی نکاسی متاثر ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں گندا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ بازاروں اور رہائشی علاقوں میں پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ گندگی اور بدبو کے باعث گاہکوں کی آمد کم ہو گئی ہے، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ گھروں سے نکلنے والا کچرا سڑکوں کے کنارے جمع ہوتا جا رہا ہے، مگر اسے اٹھانے والا کوئی نہیں۔ کئی مقامات پر آوارہ مویشی اور کتے کچرے کو مزید پھیلا رہے ہیں، جس سے ماحول انتہائی آلودہ ہو گیا ہے۔ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی صورتِ حال چند روز اور برقرار رہی تو شہر کو صحت عامہ کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب صفائی بحران کے خاتمے کے لیے پٹنہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مسلسل میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو میئر محترمہ سیتا ساہو کی صدارت اور میونسپل کمشنر یشپال مینا کی موجودگی میں پٹنہ میونسپل کارپوریشن مشترکہ ملازمین یونین کے نمائندوں کے ساتھ اہم میٹنگ ہوئی، جس میں یونین کے تین نکاتی مطالبات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔میئر نے یقین دہانی کرائی کہ کارپوریشن صفائی کارکنوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور ان کے مطالبات کو بااختیار مستقل کمیٹی اور کارپوریشن کونسل کے ذریعے ریاستی حکومت کو سفارشات کے ساتھ بھیجا جائے گا۔ تاہم چونکہ مطالبات پر حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اس لیے فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ مذاکرات کے باوجود ہڑتال ختم کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
صفائی کے بحران نے شہریوں میں حکومت اور انتظامیہ کے خلاف ناراضگی پیدا کر دی ہے۔ مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے کہا کہ حکومت اور میونسپل انتظامیہ صرف اجلاسوں اور یقین دہانیوں تک محدود ہے، جبکہ زمینی سطح پر حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتِ حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔سماجی کارکنوں اور شہری تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی کارکنوں کے جائز مطالبات پر فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ ہڑتال ختم ہو اور صفائی کا نظام معمول پر واپس آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تعطل کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
شہر میں کچرے کے بڑھتے ہوئے ڈھیر، تعفن، آلودگی اور عوامی ناراضگی نے میونسپل انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اگر آئندہ ایک دو دن میں ہڑتال ختم نہ ہوئی تو صفائی کا بحران مزید سنگین ہونے کے ساتھ صحت عامہ کا مسئلہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔ شہریوں کی نظریں اب حکومت اور میونسپل انتظامیہ کے اگلے فیصلے پر مرکوز ہیں اور وہ جلد از جلد صفائی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مسلسل بارش کے باعث سڑکوں اور گلیوں میں جمع کچرے سے شدید تعفن پھیلنے لگا ہے۔ گندگی اور بدبو نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اگر جلد صفائی کا انتظام نہ کیا گیا تو ڈینگو، ملیریا، ہیضہ اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بروقت کچرا نہ اٹھایا گیا تو صحتِ عامہ کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
More from بہار

بہار
صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

بہار
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

بہار
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

بہار
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

بہار
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

بہار
