سودی اداروں کے چنگل سے خواتین کو بچانا امت کا اہم فریضہ، عصری تعلیم کے لیے اسکول و کالج کھولنا ضروری: مولانا ازہر مدنی
Awaz E Bihar••3 ویوز•6 منٹ پڑھیں
پٹنہ: (نامہ نگار)جمعیت علماءہند کے ناظمِ اصلاحِ معاشرہ، مولانا سید ازہر مدنی نے معاشرتی برائیوں، بالخصوص بندھن بینک جیسے قرض دینے والے اداروں کے بڑھتے ہوئے جال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اداروں کے چنگل میں پھنس کر ہماری خواتین شدید اذیت کا شکار ہو رہی ہیں، جس سے معاشرے کا اخلاقی تانا بانا بکھر رہا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مسلم امت کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور اپنی بیٹیوں کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے فوری اور منظم اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پٹنہ میں جمعیت علماءہند کے زیرہتمام اصلاح معاشرہ کانفرنس میں بطورِ مہمانِ خصوصی کیا۔ مولانا ازہر مدنی نے 'اصلاحِ معاشرہ کے تصور کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں بگاڑ پیدا کرنے والی تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا ہی حقیقی اصلاح ہے۔ انہوں نے قرآن و سنت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "امربالمعرواور نہی عن المنکر (بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) اس امت کا وہ بنیادی فریضہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔" اپنے خطاب میں ناظمِ اصلاحِ معاشرہ نے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹنے والی برائیوں، جیسے منشیات اور سود خوری کا تفصیلی ذکر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر مائیکرو فنانس اداروں اور بندھن بینک کا نام لیتے ہوئے نشاندہی کی کہ کس طرح خواتین کو آسان قرضوں کے لالچ میں پھنسایا جاتا ہے۔ انہوں نے درد مندانہ اپیل کی کہ جب یہ خواتین قرض ادا کرنے میں ناکام رہتی ہیں، تو انہیں ناقابلِ بیان ذہنی و جسمانی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ ان کی عصمت و عفت پر بھی آنچ آ جاتی ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے پوری قوم کو مل کر کوشش کرنے پر زور دیا۔ معاشرتی سدھار کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی تربیت پر بات کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ نوجوانوں اور بچوں کے دین و ایمان کی حفاظت وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اس کا واحد حل علم کی بڑے پیمانے پر تشہیر اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہجہاں مدارس کا قیام ضروری ہے، وہیں اب وقت آگیا ہے کہ عصری علوم کے لیے اپنے اسکول اور کالج بھی کھولے جائیں۔ نئی نسل کو دین اور دنیا دونوں کی تعلیم سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے بہترین اور کارآمد شہری بن سکیں۔ اس موقع پر حکومتِ بہار کے وزیردیہی ترقیات و اطلاعات و تعلقات عامہ اور جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شرون کمار نے جمعیت علماء ہند کی مخلصانہ کوششوں کی زبردست ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءجس طرح سماجی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے اور اس کے اکابرین نے جنگِ آزادی میں جو تاریخی کردار ادا کیا ہے، وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ "ہمارے قائد نتیش کمار بھی سماجی اصلاح کے بڑے علمبردار ہیں، جنہوں نے شراب بندی اور جہیز جیسی قبیح رسم کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑی ہے۔ نتیش کمار نے صرف عمارتیں اور پل ہی نہیں بنائے، بلکہ سماج کے تمام محروم اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے تاریخی کام کیا ہے۔" انہوں نے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کے رہتے ہوئے سماج کے کسی بھی طبقے کے ساتھ کوئی امتیاز یا ظلم و جبر نہیں ہونے دیا جائے گا اور عوام کا جو اعتماد ان کی حکومت پر ہے، اس کی حفاظت کے لیے وہ ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ بہار قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) ڈاکٹر خالد انور نے بھی سماجی اصلاح کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماءہند ملک کی ایک انتہائی فعال اور متحرک تنظیم ہے، جس کے کارنامے روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ یہ تنظیم دبے کچلے اور محروم طبقات کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بہار میں جو سماجی تانا بانا تیار کیا ہے، اس میں فرقہ پرست عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہماری حکومت جمعیت کے ہر مثبت اور اصلاحی کام میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔" الکریم یونیورسٹی کے چانسلر اور سابق رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے اس خوبصورت محفل کی انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے معاشرے میں پھیلی ایک سنگین بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "باپ کے انتقال کے بعد پوتے کو 'محجوب' قرار دے کر جائیداد سے محروم کر دینا اسلامی اور اخلاقی طور پر صحیح نہیں ہے۔ دادا اور چچاکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے یتیم بچوں کا خاص خیال رکھیں۔" اس کے ساتھ ہی انہوں نے معاشرے سے غربت کے خاتمے کے لیے نظامِ زکوٰة کی اہمیت اور اس کے معاشی و سماجی فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جلسے سے بہار اسٹیٹ وقف بورڈ کے چیئرمین الحاج ارشاد اللہ، عمارت شرعیہ کے ناظم مفتی سعید الرحمن قاسمی، آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی، ڈاکٹر پریتک آنند، مولانا عبد الباسط اور مولانا حیدر الاسلام نے بھی خطاب کیا اور معاشرتی بگاڑ کے خاتمے پر زور دیا۔ اس عظیم الشان اجلاس کی صدارت جمعیت علماءبہار کے صدر مولانا بدر احمد مجیبی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مشہود احمد قادری ندوی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ جلسے کا اختتام مہمانِ خصوصی مولانا سید ازہر مدنی کی رقت آمیز اور اثر انگیز دعا پر ہوا، جس میں حاضرین نے نم آنکھوں کے ساتھ معاشرے کی اصلاح، امت کی حفاظت اور ملک میں امن و امان کے لیے بارگاہِ الٰہی میں آمین کہا۔ اس اجلاس سے پہلے آج صبح میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام ایک اہم تنظیمی و اصلاحی اجلاس کا انعقاد مدنی مسافر خانہ، پٹنہ جنکشن میں عمل میں آیا، جس میں جمعیۃ علماء بہار کے ارکان عاملہ و ضلعی صدور اور نظماء نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء بہار کے صدر حضرت مولانا بدر احمد مجیبی نے کی۔اجلاس میں صوبہ بہار کی موجودہ سماجی، دینی اور تنظیمی صورت حال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر ریاست میں جمعیۃ علماء کی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے، عوامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔ایجنڈے کے مطابق جمعیت علماء بہار کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد عباس قاسمی سابقہ کارروائی خواندگی کی اور حاضرین نے اس کی توثیق کی ،جمعیت علماء ہند کے سرکلر کی روشنی میں مردم شماری پر سیر حاصل گفگو ہوئی اور اسکی اہمیت اور افادیت سے لوگوں کو روشناس کرایا گیا نیز آنے والی دقتوں پر بھی غور و خوض کیا گیا ۔ سال کے آخر میں ریاستی مجلس منتظمہ کے انعقاد پر غور و خوض کیا گیا ۔ گزشتہ سال کی ماب لنچنگ پر جمعیت علماء کی کارکردگی سے حاضرین کو روشناس کرایا گیا ۔ اس نشست کی نظامت جمعیت علما ء ضلع پٹنہ کے صدر مولنا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی نے کی ۔