آندھی۔ بارش اور آسمانی بجلی سے 7 معصوم سمیت 26 لوگو ں کی موت
Awaz E Bihar••11 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ بہار میں پیر کے روزآندھی، بارش اور آسمانی بجلی کاقہر ہر طرف دیکھنے کو ملا۔ تیز ہواو?ں اور آسمانی بجلی میں 7 مصوم بچوں سمیت 26 افراد کی دردناک موت ہوگئی، جبکہ کئی لوگ زخمی اور بے گھر ہوگئے۔ سب سے زیادہ اموات گیا، مشرقی اور مغربی چمپارن، اورنگ آباد، کھگڑیا، باڑھ اور دیگر علاقوں میں ہوئی ہیں۔ گیا ضلع میں ہی چھ لوگوں کی جان چلی گئی، جہاں شیرگھاٹی میں آم چنتے ہوئے تین بچوں پر آسمانی بجلی گرنے سے ان کی خوشی ایک لمحے میں ماتم میں بدل گئی۔ گرارو، گورا اور وزیر گنج کے کسانوں پر بھی آسمانی بجلی قہر بن کر ٹوٹا۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ اورنگ آباد میں دو بچوں سمیت چار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ مشرقی چمپارن میں دو لڑکیوں سمیت تین لوگوں کی موت نے پورے علاقے کو غم میں ڈوبا کر رکھ دیا۔ کھگڑیا میں 70 سالہ شخص کی موت ہوگئی جبکہ ان کی بیوی اور بہو جھلس گئیں۔ تیز آندھی نے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، کچے مکانات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔ گوپال گنج میں صورتحال سب سے خراب تھی جہاں بجلی کے 70 کھمبے گر گئے اور 12 ٹرانسفارمر تباہ ہو گئے۔ سڑکوں پر گرے درختوں نے سمستی پور، مدھوبنی، دربھنگہ اور سیتامڑھی میں ٹریفک کو مکمل طور پر روک دیا۔ پٹنہ، گوپال گنج اور اورنگ آباد میں موسلادھار بارش کے بعد سڑکوں پر تین فٹ تک پانی بھر گیا جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے۔ شام 4 بجے ہی کالے بادلوں نے ایسا اندھیرا کیا کہ دن میں ہی رات کا احساس ہونے لگا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے 18 اضلاع میں اورنج الرٹ اور 10 میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شدید بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی کا خطرہ تاحال ٹل نہیں سکا۔