جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
تین ماہ میں ٹرائل مکمل کیئے جانے کی سپریم کورٹ کی سخت ہدایت
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

تین ماہ میں ٹرائل مکمل کیئے جانے کی سپریم کورٹ کی سخت ہدایت

Awaz E Bihar•20 اپریل، 2026 کو 04:10 PM•3 ویوز•5 منٹ پڑھیں

ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ملزم کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم گذشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے جیل میں مقید ہے اور اس دوران ہائی کورٹ نے دو مرتبہ مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کیئے جانے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود سماعت مکمل نہیں ہوسکی نیز دہلی مقدمہ میں ملزم کو ملنے والی سات سال کی سزا وہ تین سال قبل ہی مکمل کرچکا ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا کے نٹراجن نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ ملزم پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں اور ملزم کی ضمانت پر رہا کرنے سے نسق امن میں خلل پڑ سکتا ہے کیونکہ عرض گذار ایک سزا یافتہ قیدی ہے۔استغاثہ نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ کی سماعت جلداز جلد مکمل کیئے جانے کا حکم جاری کرنے کی چیف جسٹس سے گذارش کی۔اسی درمیان جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی کی جانب سے ملزم کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو بتایاکہ ملزم کیخلاف گواہی دینے کے لیئے پیش کیئے گواہان میں سے 20/ گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ملزم پر سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم کے مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل نا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے ٹرائل کو رٹ کو سخت ہدایت جاری کرنے جارہی ہے جس کے مطابق ملزم کے مقدمہ کی سماعت اگلے تین ما ہ میں مکمل کرنا ہوگا نیز اس دوران کسی بھی فریق کو عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ جس دن مقدمہ کی سماعت ہوگی اس دن صرف مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی سماعت کریگی، اس دن کسی دوسرے مقدمہ کی سماعت نہیں ہوگی، چیف جسٹس آف انڈیا نے اڑیسہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دی وہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج کے پاس سے دیگر مقدمات کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کردے تاکہ سیشن عدالت صرف مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی تیزی سے سماعت کرسکے۔چیف جسٹس آف انڈیا نے مزید ہدایت جاری کی کہ جوگواہ کسی وجہ سے کٹک سیشن عدالت پہنچ نہیں سکتے ہیں ایسے گواہان کی گواہی بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ کی ریکارڈ کی جائے نیز گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی سیشن جج مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی سماعت کرے اور پھر وہ سماعت مکمل ہونے کے بعد چھٹیاں لے سکتے ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا اور جسٹس دیو مالائی باگچی نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کی گذارش پر کٹک سیشن عدالت کو متذکرہ ہدایت جاری کی ہیں نیز مقررہ مدت میں ٹرائل مکمل نہ ہونے کی صورت میں مولانا عبدالرحمن کٹکی ڈائرکٹ اڑیسہ ہائی کورٹ میں ضمانت عرضداشت داخل کرسکتے ہیں اس کی سپریم کورٹ نے اجازت دی ہے۔ گذشتہ تین ماہ کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر 6/ مرتبہ سماعت۔آج کی عدالتی کارروائی پر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولاناحلیم اللہ قاسمی نے ممبئی میں کہا کہ ہمیں بہت امید تھی کہ اس مرتبہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کو سپریم کورٹ آف انڈیا سے ضمانت مل جائے اور ہم نے ملزم اور اس کے اہل خانہ کی درخواست پر کریمنل معاملات کی مشہور وکیل نتیا راما کرشنن کی تقرری بھی کی تھی لیکن چیف جسٹس آف انڈیا نے ضمانت پر رہائی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو سخت ہدایت دی ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ سیشن عدالت کٹک چیف جسٹس آف انڈیا کی حکم کی پاسداری کرتے ہوئے مقرر کردہ وقت میں مقدمہ کی بقیہ سماعت مکمل کرے گی نیز دفاعی وکلاء کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت کا مکمل تعاون کریں اور جلد از جلد مقدمہ کی سماعت مکمل ہوسکے اس کے لیئے کوشش بھی کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اگلے تین ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلی جائے گی اور مولانا عبدالرحمن کٹکی کو انصاف حاصل ہوگا۔
واضح رہے کہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں الگ الگ مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس میں سے دہلی مقدمہ میں ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے مولانا عبدالرحمن کٹکی بری ہوچکے ہیں۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی پرممنو ع تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی سازش رچنے اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جاکر ٹریننگ حاصل کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔گذشتہ دس سالوں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026