ماہی ندی کا بند ٹوٹنے سے سارن میں سیلاب کا بحران سنگین، درجنوں گھر زیرِ آب
Awaz E Bihar••126 ویوز•3 منٹ پڑھیں
چھپرا: سارن ضلع میں سیلاب کی صورتِ حال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ جمعہ کی دیر رات دگھوارہ بلاک کی تریلوک چک پنچایت کے کیشَرپور گاؤں کے قریب ماہی ندی کا حفاظتی بند تقریباً 10 سے 12 فٹ کی چوڑائی میں ٹوٹ گیا۔ بند ٹوٹتے ہی ندی کا تیز بہاؤ نچلے علاقوں میں سیلابی پانی کی شکل میں داخل ہوگیا۔ اچانک پانی آنے سے لوگوں کو سنبھلنے تک کا موقع نہیں ملا۔ درجنوں گھروں میں پانی داخل ہونے کے بعد کئی خاندان رات کے اندھیرے میں ہی اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔ ماہی ندی کے حفاظتی بند میں بڑا شگاف پڑنے کے بعد پانی تیزی سے رہائشی علاقوں کی طرف بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے گھروں میں داخل ہوگیا۔ اچانک آئی اس آفت کے سبب کئی خاندان گھریلو سامان، اناج اور دیگر ضروری اشیا تک محفوظ نہیں کر سکے۔ لوگوں کے سامنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات تک پہنچانے کا بڑا چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔ سیلابی پانی پھیلنے سے دگھوارہ بلاک کے درجنوں گاؤں زیرِ آب آگئے ہیں۔ دیہات کو بلاک ہیڈکوارٹر سے جوڑنے والی رابطہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے آمدورفت متاثر ہوگئی ہے۔ کئی علاقوں میں اب کشتی ہی آمدورفت کا واحد ذریعہ رہ گئی ہے۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کا انتظام کیا ہے۔ راحت اور بچاؤ ٹیمیں پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے ساتھ متاثرین کو غذائی اشیا بھی فراہم کر رہی ہیں۔ سارن میں سیلابی پانی اب اہم سڑکوں تک پہنچ گیا ہے۔ حاجی پور-غازی پور قومی شاہراہ، این ایچ-19 پر ڈمری گاؤں کے قریب سڑک پر بھی پانی چڑھنے لگا ہے۔ قومی شاہراہ پر پانی پہنچنے سے مسافروں اور گاڑی مالکان کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ اگر پانی کی سطح میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو اس راستے پر ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انتظامیہ اور آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہی ندی کے ابلنے کا اثر دریاؤپور بلاک میں بھی نظر آ رہا ہے۔ یہاں 25 سے زائد گھروں میں پانی داخل ہونے کے بعد کئی خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔ متعدد لوگ سڑک کنارے، بندوں اور دیگر اونچی جگہوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ متاثرین مویشیوں، خشک راشن اور ضروری سامان کے ساتھ محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔ جمعہ کی رات سے بڑھنے والا سیلابی پانی ہفتہ تک ضلع کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔ سون پور، دگھوارہ، گرکھا، چھپرا صدر، ریویل گنج، مانجھی، پَنَاپور، تریا، امنور، پرسا اور مَکَیر سمیت 11 بلاکوں کے کئی گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں۔ پہلے سے متاثرہ علاقوں کے ساتھ نئے علاقوں میں بھی پانی پہنچنے سے بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ان خاندانوں کو ہے جن کے گھر چاروں طرف سے پانی میں گھر گئے ہیں۔ کئی لوگ مچان، چھتوں اور اونچے بندوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ گھریلو سامان بچانے کی جدوجہد کے درمیان پینے کے صاف پانی اور صحت سے متعلق مسائل بھی بڑھنے لگے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے راحت اور بچاؤ کارروائیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاہم بڑی تعداد میں متاثرہ آبادی تک فوری امداد پہنچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔