حکومت ریلوے کی ترقی و جدیدکاری کے لیے عزم کے ساتھ کام کرتی رہے گی
Awaz E Bihar••17 ویوز•4 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کا افتتاح کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ جس طرح ملک کی پہلی ریل گاڑی کے ساتھ ممبئی کا نام جڑا ہوا ہے، اسی طرح اس جدید ٹرین کے ساتھ جِند کا نام بھی تاریخ کے صفحات میں درج ہو جائے گا۔ پی ایم مودی نے یہاں جِند جنکشن پر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد متعدد ترقیاتی منصوبوں کا بھی سنگِ بنیاد رکھا۔اس موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، جِند کوئی معمولی سرزمین نہیں ہے۔ یہ بہادری اور فخر کی زمین ہے۔ میرے لیے جِند آنا پرانی یادوں کی کھڑکی کھولنے کے مترادف ہے۔ کئی دہائیاں پہلے میں تنظیمی کام کے سلسلے میں جِند آیا تھا۔ آپ لوگوں نے مجھے جو اپنائیت اور محبت دی، میں اسے آج تک نہیں بھولا۔ مَرّا بھینس کا دودھ، دہی اور گھیور ایسی یادیں ہیں جو کبھی فراموش نہیں ہوتیں۔انہوں نے کہا، اتنے برسوں میں جِند کا گھیور تو نہیں بدلا، لیکن یہاں کے تیور ضرور بدل گئے ہیں۔ آج جِند بھارتیہ جنتا پارٹی کی اچھی حکمرانی کا ایک ماڈل بن رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پورا ہریانہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، آج یہاں سے ملک کو پہلی ہائیڈروجن ٹرین ملی ہے۔ جِند کا نام تاریخ کے صفحات میں درج ہو گیا ہے۔ ہم پڑھتے ہیں کہ ہندوستان میں پہلی ٹرین بمبئی سے تھانے کے درمیان چلی تھی۔ اسی طرح مستقبل میں جب ہائیڈروجن ٹرین کا ذکر ہوگا تو جِند، سونی پت اور ہریانہ کا نام بھی ضرور لیا جائے گا۔قابلِ ذکر ہے کہ یہ ٹرین جِند سے سونی پت تک 89 کلومیٹر کا سفر طے کرے گی۔ اس دوران ٹرین جِند سٹی، پانڈو پنڈارا جنکشن، للت کھیڑا، بھانبیو، ایساپور کھیڑی، بٹانہ، کھنڈرائی، گوہانہ جنکشن، رابرہ، لَٹھ، موہانہ ہریانہ اور بڑواسنی اسٹیشنوں سے گزرے گی۔ جاری۔۔۔ وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی ریلوے کی جدیدکاری سے متعلق اس اہم پیش رفت پر جند کے عوام کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہریانہ کو 14 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا تحفہ بھی ملا ہے، جن میں دو میڈیکل کالج بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ہریانہ کے عوام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ صفائی مہم میں لوگ جس نئے جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں، وہ انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند ریلوے کی ترقی اور جدیدکاری کے لیے اسی عزم کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ جِیند اور سونپت کے درمیان چلنے والی اس مسافر ٹرین میں ایک وقت میں تقریباً 2600 مسافر سفر کر سکیں گے۔ ہندوستان میں ڈیزائن اور تیار کی گئی یہ ٹرین مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔اس ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جبکہ اس کا ڈیزائن 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس ٹرین کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستان اُن چند ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جہاں ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کا باقاعدہ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، جاپان، چین اور امریکہ شامل ہیں۔وزارتِ ریلوے کے مطابق، 10 کوچوں پر مشتمل یہ ٹرین ہائیڈروجن اور آکسیجن کے درمیان کیمیائی عمل سے پیدا ہونے والی بجلی کے ذریعے چلتی ہے اور اس سے صرف آبی بخارات (واٹر ویپر) خارج ہوتے ہیں۔یہ ٹرین ہندوستان کے نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کے حصول اور فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی بھی موجود تھے۔