جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
امریکہ کا ایران سے 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ، مذاکرات میں تعطل برقرار
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

امریکہ کا ایران سے 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ، مذاکرات میں تعطل برقرار

Awaz E Bihar•14 اپریل، 2026 کو 04:07 PM•4 ویوز•6 منٹ پڑھیں

امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں یورینیم کی افزودگی کا معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا، جہاں امریکہ نے 20 سال تک افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا۔ غیر ملکی ویب سائٹ 'اکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ دو دہائیوں تک یورینیم کی افزودگی بند کرے۔یہ مطالبہ رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جس کے جواب میں ایرانی وفد نے نسبتاً کم مدت یعنی تقریباً 10 سال کے لیے افزودگی روکنے کی تجویز پیش کی۔ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم کی افزودگی اور موجودہ ذخائر کا معاملہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔امریکہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران اپنے زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم ایران نے اس کے بجائے افزودگی کی سطح کم کرنے اور نگرانی کے نظام کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور معاہدے کی جانب کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کا اعلان کیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکی ثالثی کے کردار میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اختلافات کم کیے جا سکیں اور 21 اپریل کو جنگ بندی کے خاتمے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدہ ممکن ہے اور جلد نئی مذاکراتی نشست کا انعقاد بھی متوقع ہے۔ایک علاقائی ذریعے کے مطابق مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے بلکہ اس وقت دونوں فریق سودے بازی کے مرحلے میں ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اگر ایران مزید لچک دکھائے اور اسلام آباد میں پیش کی گئی تجاویز کو قبول کرے تو معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی کہا کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ایک سفارتی راستہ فراہم کیا ہے جسے اعتماد اور سیاسی عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔مذاکرات کے دوران سب سے اہم اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر رہا، جہاں امریکہ نے افزودگی روکنے اور ذخائر ختم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ ایران نے اس کے بدلے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی کو اہم شرط قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اخبار سے معافی کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور کوئی بھی معاہدہ اسی بنیادی شرط پر ہوگا۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی مقررہ مدت تک کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو صورتحال ایران کے لیے مزید خراب ہو سکتی ہے اور کشیدگی برقرار رہے گی۔
انہوں نے اس سے قبل بھی انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ایران کی تیز رفتار کشتیاں امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کریں گی تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور متعدد جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکی افواج سمندر میں سخت نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور ایک دن میں 34 جہازوں کا گزر اس بات کا ثبوت ہے کہ راستہ فعال ہے۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کنٹرول بڑھایا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ کے مطابق ٹرمپ نے چین کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو دوبارہ مسلح نہ کرے۔دریں اثنا امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا، جبکہ ایران نے اسے سمندری قزاقی قرار دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی فوج خلیج عمان اور بحر عرب میں، آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بحری کنٹرول نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت بغیر اجازت داخل ہونے والے جہازوں کو روکا، موڑا یا حراست میں لیا جا سکتا ہے۔تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء لے جانے والے جہازوں کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دوبارہ رابطہ کیا ہے اور تہران ڈیل کرنے کے لیے بے قرار ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران انتظامیہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے شدید بے چین ہے اور اس سلسلے میں "مناسب لوگوں" کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ آج صبح ایران کے حوالے سے مناسب لوگوں کی طرف سےرابطہ ہوا، ایران نے ہم سے بات چیت کی ہے اور شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کئی امور پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، تاہم ایرانی حکام ایٹمی ہتھیاروں کی دستبرداری پر تاحال راضی نہیں ہیں۔ انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی ہے اور آبنائے ہرمز پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، "ہم کسی بھی ملک کو بلیک میلنگ یا بھتہ خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔"
عالمی معیشت پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کے پاس اب سعودی عرب اور روس سے بھی زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بحری جہاز تیل کے حصول کے لیے اب امریکہ کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کو بہترین قرار دیتے ہوئے نیویارک ٹائمز اور دیگر میڈیا اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایران کی مبینہ کامیابی کی خبروں کو "فیک نیوز" قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکوف اور کشنر نے وہاں انتہائی شاندار کام کیا ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026