جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ٹی وی پر سیاسی تجزیے کو مقبول بنانے والے اولین صحافی ’’ونود دوا‘‘
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

ٹی وی پر سیاسی تجزیے کو مقبول بنانے والے اولین صحافی ’’ونود دوا‘‘

Awaz E Bihar•10 دسمبر، 2025 کو 01:34 PM•4 ویوز•11 منٹ پڑھیں

محمد ہاشم القاسمی
فون نمبر9933598520
معروف صحافی، ٹی وی اینکر، سیاسی تجزیہ کار اور مشہور یوٹیوبر، ونود دوا 11مارچ 1954 میں دہلی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی اور پھر دہلی یونیورسٹی کے ہنس راج کالج سے انگریزی میں گریجویشن کیا اور دہلی یونیورسٹی سے ہی انگریزی ادب ہی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا بچپن دہلی کی رفیوجی بستیوں میں گزرا۔ ان کے والدین سرائیکی ہندو تھے جو تقسیم ہند کے بعد اپنے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا سے ہجرت کر کے ہندوستان آ گئے تھے ۔ونود دوا کی صحافت سے باضابطہ وابستگی 1970 کی دہائی میں شروع ہوئی، جبکہ نومبر 1974 میں پہلی بار دور درشن کے دہلی اسٹیشن جو ان دنوں دہلی ٹیلی ویژن کہلاتا تھا سے دکھائے جانے والے نوجوانوں کے پروگرام "یوا منچ" میں حصہ لے کر اپنی صحافتی زندگی کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ اس وقت وہ دور درشن (Doordarshan) میں بطور نوجوان میزبان تعلیمی اور سماجی پروگراموں میں نظر آئے تھے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے 1980 کی دہائی میں وہ دوردرشن کے اہم چہروں میں شامل ہو گئے۔ ان کا مشہور پروگرام "انتخابات"(Election Analysis) نے انہیں پورے ملک میں مشہور کر دیا۔ انہوں نے انتخابی اعداد و شمار، عوامی مسائل اور سیاسی مہمات کو نہایت سادہ زبان میں عام لوگوں تک پہنچایا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پروگرام "انتخابات" نے ملک میں سیاسی رپورٹنگ کا رخ ہی بدل دیا۔ وہ پہلی بار عام ناظرین کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوئے کہ الیکشن صرف جیت اور ہار کا کھیل نہیں بلکہ عوامی مسائل، حکومتی کارکردگی اور سیاسی حکمت عملیوں کا مجموعہ ہے۔ وہ ہندوستان میں ٹی وی پر سیاسی تجزیے کو مقبول بنانے والے اولین صحافیوں میں سے تھے۔ ونود دوا کی صحافتی طرز (Journalistic Style) بالکل سادہ، عام فہم زبان ، جس کی وجہ سے مشکل سیاسی موضوعات کو بھی عام شخص سمجھ سکے، یہ اُن کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ تحقیق پر مبنی ان کی گفتگو ہر قسم کے دعوے سے پہلے ٹھوس شواہد، اعداد و شمار اور تاریخی پس منظر ضرور پیش کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نرم طنز، ہنسی اور سماجی مشاہدات شامل ہوتے تھے جو سامعین کو مزید دلچسپ لگتے تھے۔ جمہوریت، سیکولرزم، آئین، اظہار رائے، اقلیتوں کے حقوق یہ ان کے نزدیک ناقابلِ سمجھوتہ اصول تھے۔ طاقت کے سامنے بے خوف چاہے حکومت ہو، بڑا میڈیا ہاؤس یا کارپوریٹ وہ سوال اٹھانے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے۔
ان کا زور ہمیشہ”حقائق کیا کہتے ہیں؟“پر ہوتا تھا ، نہ کہ سیاسی وابستگی پر۔ ان کا فوکس ہمیشہ عام آدمی کے مسائل رہے، مہنگائی ، صحت بے روزگاری، کسانوں کی مشکلات حکومتی پالیسیوں کے اثرات وغیرہ ، انہوں نے طاقت کے مراکز سے سوال پوچھنے کی روایت کو مضبوط کیا۔ سرکاری یا نجی دباؤ کے باوجود وہ ہمیشہ سچ اور اصولوں پر قائم رہے۔ انہیں ہمیشہ "بے خوف صحافی" کہا جاتا تھا۔ ونود دوا کو فرقہ پرستی سے سخت نفرت تھی۔ اسی لئے وہ ہمیشہ فرقہ پرست طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے تھے۔ گجرات کے فسادات ہوں یا کسی کی موب لنچنگ، ونود دوا تڑپ اٹھتے تھے اور رات نو بجے اپنے پروگرام میں سب کچھ کہہ دیتے تھے جو دوسرے صحافی کہنے سے گریز کرتے تھے۔ یہ بڑی حیرت انگیز بات تھی ۔ کیونکہ ان کے والد تقسیم کے بعد سرحد کے اس پار پنجاب سے اپنا گھر بار لٹوا کر دہلی آئے تھے۔ دہلی کے پنجابی عموماً فرقہ پرستی کا شکار ہونے کے باوجود فرقہ پرست ہو گئے، لیکن ونود دوا کی زندگی میں کہیں بھی بٹوارے کی تلخی کا سایہ تک نہیں دکھتا تھا۔ ونود دوا کے صحافتی اسلوب میں چند خصوصیات نمایاں تھیں: 1. وہ بغیر تحقیق کے کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ اعداد و شمار، تاریخی پس منظر اور زمینی حقائق ان کے تجزیوں کی بنیاد ہوتے تھے۔ 2. سادہ مگر پر اثر زبان، گفتگو رواں، اور لہجہ عام فہم ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دیہات، قصبوں اور شہروں کا عام شہری بھی ان کی بات سمجھ لیتا تھا۔ 3. طنز کے ساتھ سچائی کو اس مہارت سے استعمال کرتے تھے کہ بات دل میں اتر بھی جاتی اور کسی کی دل آزاری بھی نہ ہوتی تھی ۔4. جرات اور غیر جانبداری ان کی صحافت میں نمایاں تھیں وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے والے صحافی تھے۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ انہیں "قدرت کے آگے نہیں، سچ کے آگے جھکنے والا" کہا جاتا تھا۔ ونود دوا اردو ادب اور اردو شاعری کے دلدادہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ شاید ہی ان کا کوئی ٹی وی شو ہوگا جس میں وہ کم از کم اپنی بات ایک اردو کے معیاری شعر کے ذریعہ اپنے ناظرین کو نا سمجھاتے ہوں۔ معروف صحافی جناب ظفر آغا لکھتے ہیں کہ "میں نے یونہی ایک بار پوچھا ونود صاحب یہ اردو آپ نے کہاں سیکھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ "ارے بھائی میں چاندنی چوک میں پلا بڑھا اور پرانی دہلی میرا گہوارا رہا ہے"۔ ظفر آغا لکھتے ہیں" سن 1950 کی دہائی میں غربت کے درمیان پرانی دہلی میں ونود دوا نے نہ صرف اسکولی تعلیم حاصل کی، بلکہ چاندنی چوک، جامع مسجد اور اردو بازار جیسے علاقوں کی اردو زبان ان میں رچ بس گئی اور اردو ان کے پروگرام کا اٹوٹ حصہ بن گئی، صرف یہی نہیں کہ وہ پرانی دہلی کی زبان اور وہاں کی گنگا جمنی تہذیب میں رچے بسے تھے، بلکہ ونود تو شاہجہاں آباد کے مغلائی کھانوں میں بھی ڈوبے ہوئے تھے۔ پرانی دہلی میں نہاری کہاں سب سے اچھی ملتی ہے، بریانی اور کباب کہاں کے سب سے بہتر ہیں، وہ یہ بھی خوب جانتے تھے اور ان کا لطف بھی اٹھاتے تھے۔ ونود دوا اپنی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے کبھی غافل نہیں ہوئے، لوگوں سے ملنا جلنا، گفتگو کرنا اور ان کی ہلکی پھلکی باتوں میں دلچسپی لینا ان کا مشغلہ تھا۔ اسی لئے، چار پہیہ گاڑی ہونے کے باوجود میٹرو ٹرین میں سفر کرتے تھے اور اسٹیشن سے دفتر یا اسٹیشن سے گھر تک کی مسافت پیدل طے کرتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے "ذائقہ انڈیا کا"جیسا مقبول ٹی وی شو شروع کیا تھا جس کے لئے اُنہوں نے الگ الگ ریاستوں کا دورہ کیا، الگ الگ شہروں کے ریستورانوں میں گئے، وہاں کے مخصوص پکوانوں کی تفصیل جانی، اجزائے ترکیبی معلوم کی، ریستوراں کے مالک سے، باورچی سے اور گاہکوں سے گفتگو کی تاکہ الگ الگ پکوانوں کی جزئیات کو اپنے ناظرین تک پہنچا سکیں۔
یہ اپنی نوعیت کا انوکھا شو تھا جو این ڈی ٹی وی پر مہینوں تک چلا۔ اسی دور کا ان کا ایک اور نمایاں پروگرام "جن وانی" تھا، جس میں عوام اپنے سوال حکومتی نمائندوں سے براہِ راست پوچھتے تھے۔ یہ پروگرام اپنی نوعیت کا جرات مندانہ تجربہ تھا اور ہندوستانی میڈیا میں شفاف مکالمے کی طرف ایک مضبوط قدم سمجھا جاتا ہے۔ونود دوا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ہندوستان میں تنقیدی اور آئینی صحافت کی اساس کو مضبوط کیا۔ وہ طاقتور حلقوں پر تنقید کرنے سے نہ گھبراتے تھے۔ ان کا ماننا تھا: "میڈیا کا کام حکومت کا ترجمان بننا نہیں، بلکہ عوام کا وکیل بننا ہے"۔ ونود دوا محض ایک کہنہ مشق صحافی ہی نہیں تھے بلکہ وہ ہمہ جہت شخصیت کا حامل ایک انسان تھے۔ اردو، پنجابی ادب پر ان کی اچھی گرفت تھی جو ان کے پروگراموں میں صاف جھلکتی تھی۔ دور درشن، این ڈی ٹی وی سے لے کر انڈیا ٹوڈے، زی ٹی وی، سہارا ٹی وی وغیرہ چینلوں میں سب جگہ چینل کی پالیسی نہیں چلائی بلکہ اپنی خود کی آزاد صحافت کی، کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اگر کسی چینل کے مالک نے ان پر ذرا سا دباؤ ڈالا، وہ شرافت سے بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے چینل چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ وہ فن صحافت میں ایسا یکتا تھے کہ ایک چینل سے نکل کر دوسری رات دوسرے چینل پر چمکتے تھے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے عروج کے ساتھ انہوں نے یوٹیوب پر"The Vinod Dua Show" شروع کیا جو بہت جلد عوام کا پسندیدہ پلیٹ فارم بن گیا۔ اس پروگرام میں وہ روزمرہ سیاست، حکومتی فیصلوں اور سماجی تبدیلیوں پر بے لاگ تجزیہ پیش کرتے تھے۔ ان کا نقطۂ نظر ہمیشہ اصولی، تحقیق پر مبنی اور جرات مندانہ ہوتا تھا۔ کئی دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں ونود دوا نے بطور نیوز اینکر اور پرینٹر دور درشن اور این ڈی ٹی وی سمیت کئی میڈیا اداروں میں کام کیا۔ ونود دوا اپنے پروگرام میں اس وقت کی حکومتوں پر سوال اٹھانے کے لیے معروف تھے۔
ان دنوں بی جے پی کے مقتدرہ صوبوں کی پولیس نے ان پر کئی معاملے درج کیے تھے 2016 سے 2018 کے بیچ وہ بطور کنسلٹنٹ ایڈیٹر"دی وائر" سے وابستہ ہوگئے تھے اور "جن گن من" کی بات کے نام سے پروگرام پیش کیا کرتے تھے۔ سال 2019 کی شروعات میں وہ سوراج ٹی وی اور ایچ ڈبلیو نیوز کے ساتھ جڑے۔ سال 2018 میں جب"می ٹو" تحریک اپنے عروج پر تھی اس وقت فلمساز نشٹھا جین کی طرف سے 1989 میں ہوئے ایک واقعہ کو لےکر ونود دوا پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ دوا نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور رضاکارانہ طور پر اپنے شو کو بند کرتے ہوئے ایک آزادانہ پینل کے ذریعے ان الزامات کی جانچ کے لیے حامی بھری تھی۔ تب دی وائر نے سپریم کورٹ کے ایک سبکدوش جج کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی، لیکن یہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔ جون 2020 میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے دہلی بی جے پی کے ایک ترجمان کی شکایت پر ونود دوا کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ بی جے پی لیڈر نے ان پر ایچ ڈبلیو نیوز کے یوٹیوب چینل کے ذریعے"فیک نیوز" پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔ ایک شکایت میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے لیے"دہشت پھیلانے" والا جیسا توہین آمیز لفظ استعمال کیا تھا۔ دہلی کی ایک عدالت نے اس معاملے میں انہیں عبوری ضمانت دے دی تھی۔ انہی دنوں بی جے پی لیڈر اجئے شیام کی شکایت کے بعد ہماچل پردیش پولیس نے ونود دوا کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کرتے ہوئے انہیں سمن بھیجا تھا۔ شیام کا کہنا تھا کہ 30 مارچ 2020 کو نشر ہوئے 15 منٹ کے یوٹیوب پروگرام میں دوا نے مرکزی حکومت کی طرف سے اچانک اعلان کردہ"لاک ڈاؤن" کے بعد دہلی سے جا رہے مزدوروں کو لےکر"عجیب الزام"لگائے تھے۔ اس سال کی شروعات میں اس معاملے کو خارج کرتے ہوئے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ "ہر صحافی کیدار ناتھ سنگھ معاملے (جس نے آئی پی سی کی دفعہ124اے کے تحت سیڈیشن کےجرم کے دائرہ کار کی وضاحت کی تھی)کے تحت تحفظ حاصل کرنےکا حق دار ہے"۔ وہ الیکٹرانک میڈیا کے پہلے صحافی تھے جنہیں باوقار 'رام ناتھ گوئنکا ایکسیلنس ان جرنلزم ایوارڈ' سے نوازا گیا تھا۔ 2008 میں انہیں صحافت میں نمایاں خدمات انجام دینے کے اعتراف میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھے اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ 'پدم شری' سے نوازا گیا تھا۔ اور ممبئی پریس کلب نے 2018 میں 'ریڈ انک ایوارڈ' سے نوازا تھا۔ یہ اعزاز انہیں صحافت میں ان کی زندگی بھر کی کامیابیوں پر دیا گیا تھا۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ونود دوا اسپتال میں زیر علاج تھے اور اس کے بعد سے وہ صحت کے مختلف مسائل سے جوجھ رہے تھے۔ 4 دسمبر 2021 کی شام ان کی بیٹی ملیکا نے اپنے والد کے انتقال کی تصدیق سوشل میڈیا میں کی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے جون میں ونود دوا کی بیوی اور ریڈیولوجسٹ پدماوتی دوا(چنا دوا) کی کووڈ 19 کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔ ملیکا نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ ان کے والد اس سانحے کو قبول نہیں کر پا رہے تھے"۔ان کے انتقال پر ملک اور بیرون ملک مختلف حلقوں بالخصوص صحافتی برادری کی طرف سے بڑے پیمانے پر سوگ منایا گیا۔ مشہور شاعر جاوید اختر نے ٹوئٹ کر کے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا "ونود جی، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ ہمارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ اس وقت ہمیں آپ کی بے حد ضرورت تھی اور آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ محترم ہم کروڑوں ہندوستانی آپ کو ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے ".
معروف صحافی اور کالم نگار ظفر آغا نے لکھا " ونود تم کو بھلا پانا ناممکن ہے اور آج کے دور میں تمہاری اصولی صحافت کی کس قدر ضرورت ہے اس کا اندازہ لوگوں کو تمہاری غیر موجود میں ہوگا"۔یقینا آج ونود دوا ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن سیکڑوں سوشل میڈیا چینل پر وہ آج بھی زندہ ہیں اور کل بھی زندہ رہیں گے! ۔ ***

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026