مرکزی حکومت بہار کے سیلاب متاثرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے: شیوراج
Awaz E Bihar••17 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 16 ستمبر (اے بی این) زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بدھ کے روز کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں مودی حکومت بہار کے ہر کسان اور سیلاب متاثرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور سیلاب متاثرین کو راحت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نیز مرکز اور ریاستی حکومت کے حکام کے ساتھ حاجی پور، ویشالی، منگیر اور بھاگلپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے موٹر بوٹ، کشتی اور ٹریکٹر کے ذریعے پانی میں ڈوبے ہوئے دیہاتوں اور کھیتوں کا جائزہ لیا اور راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں سے بات چیت کر کے ان کے مسائل کی معلومات حاصل کیں۔ مسٹر چوہان نے کہا کہ اس بار کئی مقامات پر سیلاب کا پانی 2016 کے ہولناک سیلاب سے تقریباً ایک فٹ زیادہ پہنچ گیا ہے۔ دس دنوں سے زائد عرصے تک پانی میں ڈوبے رہنے کی وجہ سے کیلے اور مکئی کی فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تقریباً 50 لاکھ لوگوں کے متاثر ہونے، مکانات اور مویشیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے اور ایسی صورتحال میں کسانوں کی محنت کی فصل کو پانی میں ڈوبتے دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ان داتا (کسانوں) کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ان کی روزی روٹی کی حفاظت کے لیے ہر ممکن مدد کرے گی۔ مرکزی وزیر نے آج حاجی پور کے تیرسیا اور سرائے پور دیہاتوں میں زیرِ آب علاقوں کا موٹر بوٹ اور کشتی سے معائنہ کیا۔ راگھو پور سکس لین پل سے بھی سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ منگیر میں نواگڑھی راحت کیمپ اور کوجی کریا ڈیم کا معائنہ کر کے راحت، سکیورٹی اور پانی کی نکاسی کے انتظامات کی معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد انہوں نے بھاگلپور میں راحت کیمپوں کا جائزہ لیا اور وہاں مقیم سیلاب متاثرین سے بات چیت کی۔ مسٹر چوہان نے اس دوران کہا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں ریاستی حکومت اور انتظامیہ راحت و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کے طور پر سات ہزار روپے کی رقم ان کے بینک کھاتوں میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے بھیجنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کو بھیج کر طبی سہولیات اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں، پینے کے پانی، خشک راشن اور گرم کھانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ اور دستیاب وسائل سے فوری امداد فراہم کر رہی ہے۔ زراعت اور دیہی ترقی کے شعبے کے حکام ابتدائی سطح پر نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کی طرف سے ایک بین وزارتی مرکزی ٹیم بہار بھیجی جائے گی، جو زرعی فصلوں، سڑکوں، پلوں، مکانات اور مویشیوں کو ہونے والے نقصان کا تفصیلی تخمینہ لگائے گی۔ مسٹرچوہان نے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کے تحت ضروری تجاویز موصول ہونے پر مرکزی حکومت کی سطح پر قواعد کے مطابق امداد فراہم کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے عوام کو اس بحران سے نکالنے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومت مل کر کام کر رہی ہیں اور کسی بھی متاثرہ خاندان کو بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا۔ مرکزی وزیر دن بھر سیلاب متاثرہ علاقوں، پشتوں اور راحت کیمپوں کا جائزہ لینے کے بعد شام کو وزیراعلیٰ رہائش گاہ، انے مارگ میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں مرکز اور ریاستی حکومت کے متعلقہ محکموں کے حکام ان کے ساتھ امدادی سامان کی تقسیم، طبی سہولیات، فصلوں کے نقصان، معاوضے اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔