تالابوں میں فش فارمنگ کو فروغ دینے کے لیے 70 فیصد تک سبسڈی دی جائے گی
Awaz E Bihar••19 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 27 ستمبر:(اے بی این ) ریاست میں تالاب پر مبنی ماہی پروری کو فروغ دینے اور مچھلی کی پیداوار اور زیرا کی پیداوار میں خود انحصاری کو فروغا دینے کے مقصد کے ساتھ، مالی سال 2026-27 کے لیے وزیر اعلیٰ تالاب فشریز ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اس اسکیم کو ریاست کے تمام اضلاع میں نافذ کیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت ماہی پروری کر نے والوں کو زیرا کی بہتر پیداوار، ٹیوب ویل اور پمپ سیٹ کی تنصیب اور تالابوں میں مکینیکل ایریٹرز کے لیے گرانٹ فراہم کی جائے گی۔اسکیم کے تحت مچھلی کے بیجوں (زیرہ)کی بہتر پیداوار کے لیے یونٹ لاگت 1 لاکھ روپے فی 0.5 ایکڑ ہے۔ ٹیوب ویل اور پمپ سیٹ کی تنصیب کی یونٹ لاگت 1.20 لاکھ ہے، اور تالاب کی ماہی گیری کے لیے مکینیکل ایریٹرز کی یونٹ لاگت 50ہزار روپے متعین کیا گیا ہے۔ ان اجزا کو عام زمرے کے استفادہ کنندگان کومتعین کی گئی لاگت کا 50 فیصد سبسڈی ملے گی، جب کہ انتہائی پسماندہ طبقات، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے استفادہ کنندگان کو 70 فیصد سبسڈی ملے گی۔ اس اسکیم کا مقصد ریاست کے تالاب کے پانی کے وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرتے ہوئے مچھلی کی پیداوار کے مختلف شعبوں کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے لیے محکمہ ماہی پروری کی ویب سائٹ fisheries.bihar.gov.in پر آن لائن درخواست دی جاسکتی ہے۔ درخواست کے ساتھ فائدہ اٹھانے والے کا موبائل نمبر، بینک برانچ کا نام، بینک اکاؤنٹ نمبر، اور IFSC کوڈ درج کرنا ضروری ہے۔ ان کے آدھار کارڈ، راشن کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، یا زمین کے نقشے کی تصدیق شدہ کاپی منسلک ہونی چاہیے۔ ایس سی ، ایس ٹی اور انتہائی پسماندہ طبقے کے مستفیدین کے لیے ذات کا سرٹیفکیٹ منسلک کرنا لازمی ہے۔بہار نہ صرف مچھلی کی پیداوار میں خود کفیل ہو گیا ہے بلکہ برآمد کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، 2025-26 میں ریاست سے 39.07 ہزار ٹن مچھلی برآمد کی گئی تھی،ان میں نیپال، سلی گوڑی، لدھیانہ، امرتسر، وارانسی، گورکھپور، دیوریا، کپتان گنج، رانچی اور گوڈا جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔