اردو اسکولوں میں جمعرات کو نصف دن کی روایت بحال ہو: انوارالحسن وسطوی
Awaz E Bihar••139 ویوز•4 منٹ پڑھیں
حاجی پور، 13 اگست:(اے بی این ) اردو اسکولوں میں جمعرات کو ہاف ڈے رکھنے کی قدیم روایت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ معروف قلم کار، کالم نویس اور اردو تحریک کے سرگرم کارکن انوارالحسن وسطوی نے حکومتِ بہار کے محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل اسکولوں کی طرح سرکاری اردو میڈیم اسکولوں میں بھی ہفتہ وار تعطیل سے ایک روز قبل، یعنی جمعرات کو، ہاف ڈے اسکول چلانے کی واضح ہدایت جاری کی جائے۔ انوارالحسن وسطوی نے محکمۂ تعلیم کے حالیہ حکم نامے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اسکولوں میں ہفتہ کے روز ہاف ڈے رکھنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن حکم نامے میں اردو میڈیم اسکولوں کے بارے میں واضح وضاحت نہ ہونے سے اردو اسکولوں کے اساتذہ تذبذب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو اسکولوں میں جمعرات کو ہاف ڈے رکھنا کوئی نئی رعایت نہیں بلکہ آزادی سے قبل سے چلی آرہی ایک قدیم انتظامی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے جنرل اسکولوں میں اتوار کو ہفتہ وار تعطیل اور سنیچر کو ہاف ڈے کا نظام رہا ہے، جبکہ اردو میڈیم اسکولوں میں جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل اور جمعرات کو ہاف ڈے اسکول چلانے کی روایت رہی ہے۔ نومبر 2024 تک یہ نظام رائج تھا، جسے اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمۂ تعلیم کے۔ کے۔ پاٹھک کے حکم سے ختم کرکے تمام اسکولوں کے لیے یکساں اوقات مقرر کردیے گئے تھے۔ انوارالحسن وسطوی نے کہا کہ یکساں اوقات مقرر کرنے کے فیصلے کی اساتذہ اور طلبہ کے سرپرستوں نے بھرپور مخالفت کی تھی، لیکن اس وقت ان کے جذبات اور مطالبات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے ہفتہ وار تعطیل سے ایک روز قبل ہاف ڈے اسکول کا نظام دوبارہ نافذ کرنا اس اعتبار سے قابلِ ستائش ہے کہ اس سے اساتذہ اور طلبہ کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمۂ تعلیم کے تازہ حکم نامے میں اگر جنرل اسکولوں کے لیے سنیچر کو ہاف ڈے مقرر کیا گیا ہے تو اردو اسکولوں کے لیے بھی جمعرات کو ہاف ڈے ہونے کی صراحت ہونی چاہیے تھی۔ اس وضاحت کے فقدان سے اردو اسکولوں کے اساتذہ کے سامنے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ وہ جمعرات کو معمول کے مطابق مکمل وقت تک اسکول چلائیں یا ہاف ڈے کریں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماضی کی روایت اور موجودہ فیصلے کے پس منظر میں اردو اسکولوں کے لیے بھی جمعرات کو ہاف ڈے کا نظام نافذ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اردو اسکولوں کے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے حق کے معاملے میں خوف یا ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں۔ انوارالحسن وسطوی نے کہا کہ اردو اسکولوں میں جمعرات کو ہاف ڈے کا مطالبہ کسی خصوصی مراعات کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ مساوی سہولت اور جمہوری حق کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنرل سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور طلبہ کو ہفتہ وار تعطیل سے قبل ہاف ڈے کی سہولت دی جارہی ہے تو یہی سہولت اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اردو اسکول بھی ریاست کے سرکاری تعلیمی نظام کا اتنا ہی اہم حصہ ہیں جتنے دیگر سرکاری اسکول۔ زبان یا اسکول کی نوعیت کی بنیاد پر سہولتوں میں فرق کرنا ناانصافی اور حق تلفی کے مترادف ہوگا۔ انوارالحسن وسطوی نے حکومتِ بہار اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں فوری طور پر واضح حکم جاری کیا جائے، تاکہ اردو اسکولوں کے اساتذہ میں پیدا ہونے والا تذبذب ختم ہو اور جمعرات کو ہاف ڈے رکھنے کی قدیم روایت باقاعدہ طور پر برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی استاد کے خلاف اس حق کے استعمال پر محکمہ جاتی کارروائی کی جاتی ہے تو تمام اساتذہ متحد ہوکر قانونی طور پر اپنے حق کی حفاظت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔