ممبئی میں پانی کی قلت، 15 مئی سے 10 فیصد کٹوتی نافذبڑھتی آبادی،عوام میں ناراضگی
Awaz E Bihar••39 ویوز•4 منٹ پڑھیں
عروسُ البلاد ممبئی ایک بار پھر شدید پانی بحران کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔برہن ممبئی میونسپل (بی ایم سی) نے اعلان کیا ہے کہ 15 مئی سے پورے ممبئی میں 10 فیصد پانی کی کٹوتی نافذ کی جائے گی۔ شہری انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر لیا گیا ہے کیونکہ ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی جھیلوں میں سطح آب خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ اس اعلان کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ گرمی کے آغاز ہی میں پانی کی قلت نے مستقبل کے حالات کے تعلق سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔بی ایم سی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ شہریوں کو گھبرانا نہیں چاہئیے، تاہم پانی کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پانی کی سپلائی منظم طریقے سے جاری رکھی جائے گی تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔ اس کے باوجود کئی علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے گرمی شروع ہوتے ہی پانی کی فراہمی متاثر ہونے لگتی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں پہلے ہی کم دباؤ کے ساتھ پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ شہری انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ حکومتِ مہاراشٹر کے محکمۂ آبی وسائل کی ہدایات اور محکمۂ موسمیات کی پیش گوئی کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ ماہرین نے رواں سال ممکنہ ایل نینو اور بحرِ ہند کے دو قطبی موسمی اثرات کے باعث مانسون کمزور رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اگر بارش معمول سے کم ہوئی تو ممبئی جیسے گنجان آباد شہر کو مزید سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پیر تک ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے ذخائر میں مجموعی طور پر صرف 340,399 ملین لیٹر پانی موجود ہے، جبکہ شہر کی سالانہ ضرورت 1,447,363 ملین لیٹر ہے۔ اس طرح قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ محض 23.52 فیصد رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایم سی مسلسل آبی ذخائر کی نگرانی کر رہی ہے اور پانی کی سپلائی کو محدود پیمانے پر منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھاتشا کے محفوظ ذخیرے سے 147,092 ملین لیٹر اضافی پانی فراہم کیا جائے گا، جبکہ اپر ویترناڈیم سے مزید 90,000 ملین لیٹر پانی مہیا کیا جائے گا۔ اس کے باوجود شہری انتظامیہ نے 10 فیصد پانی کی کٹوتی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ یہ پابندی صرف ممبئی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ تھانے، بھیونڈی اور دیگر مضافاتی علاقوں پر بھی نافذ ہوگی۔ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ممبئی میں پانی کا بحران صرف موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ برسوں کی ناقص منصوبہ بندی، بے ہنگم شہری توسیع اور بڑھتی ہوئی آبادی کا بھی شاخسانہ ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ممبئی کا رخ کرتے ہیں، جس سے شہر کے بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پانی کی فراہمی کے نظام میں اسی رفتار سے اضافہ نہیں ہو پا رہا جس رفتار سے شہر پھیل رہا ہے۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو شہر بھر میں جاری بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں بھی ہیں۔ ممبئی اور مضافات میں ہزاروں رہائشی اور تجارتی منصوبے تیزی سے تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن کے لیے بھاری مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ شہری حلقوں کا الزام ہے کہ کئی علاقوں میں بلڈروں اور تعمیراتی منصوبوں کو وافر مقدار میں پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ عام شہری پانی کی قلت اور کم دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مئی اور جون کے مہینوں میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انتظامیہ کے پاس پانی کی کٹوتی کے سوا کوئی دوسرا مؤثر راستہ باقی نہیں رہتا۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی منصوبوں میں پانی کے استعمال کو منظم نہ کیا گیا تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی پانی کنکشن، پائپ لائنوں سے پانی کا ضیاع اور پانی چوری جیسے مسائل بھی بحران کو بڑھا رہے ہیں۔ کئی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعمیراتی کمپنیوں کو ری سائیکل شدہ پانی استعمال کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ پینے کے پانی پر دباؤ کم ہو سکے۔ شہری حلقوں نے حکومت اور بی ایم سی سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف عارضی کٹوتیوں کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، پانی کی ری سائیکلنگ، نئی جھیلوں کی تعمیر، پائپ لائنوں کی مرمت اور عوام میں پانی بچانے کے شعور کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ بصورت دیگر ہر سال گرمی کے آغاز کے ساتھ ممبئی کو اسی طرح پانی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔