پٹنہ(اے بی این ) فرکا آبی معاہدے کو لے کر بہار کی سیاست ایک بار پھر گرم ہوگئی ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق 1996 کے معاہدے کی موجودہ شکل میں تجدید کی مخالفت تیز کردی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بہار کے آبی مفادات کو نظرانداز کرکے کسی بھی معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔ جے ڈی یو کے ورکنگ صدر اور راجیہ سبھا رکن سنجے جھا نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار رہے یا نہ رہے، بہار کے پانی سے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔فرکا آبی معاہدہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق ہے۔ 12 دسمبر 1996 کو ہونے والے اس 30 سالہ معاہدے کی مدت رواں سال دسمبر میں مکمل ہورہی ہے، جس کے بعد اس کی تجدید یا مستقبل کے فارمولے پر فیصلہ ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار میں اس معاہدے کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سنجے جھا کا کہنا ہے کہ فرکا معاہدے پر آئندہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت بہار کی موجودہ اور مستقبل کی پانی کی ضرورت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ جے ڈی یو کا الزام ہے کہ موجودہ انتظامات کے نتیجے میں بہار کو خشک موسم میں گنگا کے پانی کی مطلوبہ مقدار نہیں مل پاتی اور اس کے ماحولیاتی، زرعی اور آبی مفادات متاثر ہوتے ہیں۔پارٹی نے اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی سطح پر بحث کا موضوع بنانے کی بھی کوشش شروع کردی ہے۔ جے ڈی یو نے ’نتیش سنواد‘ کے نام سے مہم شروع کی ہے، جس کے تحت بہار کے 12 اضلاع میں عوام کے درمیان جاکر فرکا معاہدے اور ریاست کے آبی حقوق پر گفتگو کی جائے گی۔ فرکا معاہدے کی تجدید کے معاملے پر سنجے جھا نے پارلیمنٹ میں بھی بہار کے مفادات کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے بہار کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ معاہدے کی تجدید یا مستقبل کے فیصلے میں ریاست کی پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سنجے جھا کو یقین دلایا ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدے کے مستقبل پر فیصلہ کرتے وقت بہار کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ خاص طور پر پینے اور صنعتی استعمال کے لیے ریاست کی پانی کی ضروریات کو بھی زیرغور رکھا جائے گا۔ فرکا کا مسئلہ ایسے وقت میں زور پکڑ رہا ہے جب بہار میں گنگا سمیت مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح اور سیلاب کو لے کر بھی سیاسی بحث جاری ہے۔ ریاستی حکومت کے رہنماؤں کی جانب سے گاد جمع ہونے، دریاؤں کی پانی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہونے اور طویل مدتی سیلابی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے بھی فرکا معاہدے کی تجدید کے دوران بہار کی ضرورتوں اور مفادات کو ترجیح دینے کی بات کہی ہے۔جے ڈی یو کا موقف ہے کہ بہار کی آبادی، زراعت، صنعت اور مستقبل کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے پانی کے حصے پر جامع طور پر غور کیا جانا ضروری ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ صرف موجودہ حالات کو دیکھ کر نہیں بلکہ آنے والی دہائیوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پانی کی پالیسی طے ہونی چاہیے۔ سنجے جھا کے تازہ بیان نے اس مسئلے کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن بہار کے پانی اور عوام کے مفادات مستقل ہیں۔ اسی لیے جے ڈی یو اس معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔پارٹی کے اس سخت موقف کے بعد فرکا آبی معاہدے کی تجدید کا معاملہ آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست کا ایک اہم موضوع بننے کے امکانات ہیں۔ ایک طرف مرکزی حکومت نے بہار کے مفادات کو مدنظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تو دوسری طرف جے ڈی یو معاہدے کی موجودہ شکل اور بہار پر اس کے اثرات کو لے کر مزید دباؤ بنانے کی تیاری میں ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دسمبر میں معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے مرکز، بہار اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان اس معاملے پر کیا فارمولہ سامنے آتا ہے اور بہار کے پانی کے حق سے متعلق جے ڈی یو کی مہم کس حد تک سیاسی دباؤ پیدا کرتی ہے۔