کسی ملک کا مستقبل اس کے کتب خانوں میں جمع ہونے والی نوجوانوں کی بھیڑ سے ہوتا ہے طے: شاہ
Awaz E Bihar••4 ویوز•4 منٹ پڑھیں
داخلہ اورامدادباہمی کے مرکزی وزیر امیت شاہ نے ہفتہ کو کہا کہ کسی ملک کا مستقبل زراعت، بازار یا صنعت سے نہیں بلکہ اس کے کتب خانوں (لائبریریوں) میں جمع ہونے والی نوجوانوں کی بھیڑ سے طے ہوتا ہے۔ مسٹر شاہ نے آج یہاں نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے ذریعے ادیان مارگ میں نو تعمیر شدہ ہائی ٹیک، ڈیجیٹل اور جدید ترین لوک نایک جے پرکاش نارائن (جے پی این) پبلک لائبریری کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کسی ملک کا مستقبل زراعت، بازار یا صنعت سے نہیں بلکہ اس کے کتب خانوں میں جمع ہونے والی نوجوانوں کی بھیڑ سے طے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آگے بڑھانے والی، ملک کی تعمیرِ اور ملک کو عظمت دلانے والی تمام سرگرمیوں کی بنیاد علم و حکمت میں ہوتی ہے۔ یہ علم صرف ایک لائبریری ہی دے سکتی ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ ایک بار لائبریری سے ضرور جڑیں۔ پڑھنے کی عادت بنتے ہی اچھے اور برے کی تمیز خود بخود جاگ جائے گی۔ وزیر داخلہ نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جس چھوٹے سے قصبے میں وہ پیدا ہوئے اور ان کا بچپن گزرا، وہاں ایک متمول لائبریری تھی۔ اس لائبریری سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی آئی۔ 'علاء الدین اور جادوئی چراغ'، 'علی بابا چالیس چور، 'سندباد کا سفر جیسی کتابیں پڑھتے پڑھتے کب ان کا مطالعہ کا سفر ویدوں اور اپنشدوں تک پہنچ گیا، انہیں پتہ ہی نہیں چلا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہال میں انہوں نے ایک جملہ لکھا ہوا دیکھا کہ "بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے، کیونکہ الفاظ کبھی واپس نہیں آتے۔" انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جملہ بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے اور سوچنے سے پہلے پڑھنا چاہیے کہ کیا سوچنا ہے، اور یہ سنسکار صرف لائبریری سے ہی مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائبریری کا ان کی زندگی میں بہت بڑا تعاون ہے۔ ان کے پارلیمانی حلقے کے تقریباً ہر گاؤں میں ایک لائبریری کھولی گئی ہے، جس میں تقریباً 3-4 ہزار کتابیں ہیں۔ ان لائبریریوں کو مرکزی لائبریری سے لنک کیا گیا ہے، جس میں سوا لاکھ کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ چار موبائل وین بھی چلائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤوں کے بچے لائبریری میں اپنی پسند کی کتاب کا نام لکھ کر اسے منگوانے کی درخواست کرتے ہیں، اور ہر جمعہ کے دن بچوں کو ان کی پسند کی کتاب گاؤں میں ہی دستیاب کرا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر لائبریری کو اسکولوں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ لوک نایک جے پرکاش نارائن کے نام سے منسوب یہ لائبریری نوجوانوں کے علم اور فکر کا نیا مرکز بنے گی۔ انہوں نے دہلی حکومت سے اپیل کی کہ وہ دہلی کی تمام لائبریریوں کو آپس میں لنک کریں اور اسکولوں کو ان سے جوڑنے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایکشن پلان بنا کر کتابوں کے شوقین افراد کو لائبریریوں سے جوڑنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لائبریری علم کے سمندر میں غوطہ لگانے کا حوصلہ دیتی ہے اور سمندر کے نیچے پڑے موتیوں اور جواہرات کو چن کر اوپر لانے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ علم کے سمندر کے غوطے سے نکلے یہ موتی اور جواہرات ہی شخصیت کو نکھارتے ہیں، ملک کو آگے بڑھاتے ہیں، ملک کو خوشحال اور خود کفیل بناتے ہیں، ملک کو مہذب، تعلیم یافتہ اور محفوظ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادیب رام دھاری سنگھ 'دنکر' جی کو پڑھے بغیر اس ملک کی روح، ثقافت، خود داری اور جدوجہد کو نہیں جانا جا سکتا، اور لائبریری اس میں سب سے مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔