• ہر بلاک میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کی سمیت میں تاریخی پہل
Awaz E Bihar••49 ویوز•6 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 15 جولائی(اے بی این ) وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے آج بھاگلپور کے گوراڈیہہ، نئے قائم ڈگری کالج، کاسل احاطہ سے پوری ریاست کے 211 نئے ڈگری کالجوں میں تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کیا۔ اس موقعہ پر تقریب پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج بہار کے لیے فخر کا دن ہے۔ ریاستی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کو وسعت دینے کی سمت میں تاریخی قدم اٹھایا ہے، جس میں ہر بلاک کے طلباء کو ان کے اپنے علاقے میں معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کے شاندار تعلیمی ورثے کو زندہ کرنے کے لیے قدیم وکرم شیلا یونیورسٹی کونئی شکل میں بحال کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس کے لیے ریاستی حکومت کے ذریعہ تقریباً 220 ایکڑ اراضی منتقل کی جاچکی ہے، اور آئندہ ایک سال کے اندر وکرم شیلا یونیورسٹی قائم کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظفر پور میں یونیورسٹی آف آرکیٹیکچر اینڈ سول انجینئرنگ قائم کی جائے گی اور بھاگلپور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور کمپیوٹر سائنس کی یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی بہار میں چار نئی نجی یونیورسٹیوں کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی بہار کی خوشحالی کی سب سے بڑی بنیاد ہوگی اور ریاست کو علم اور اختراع کے مرکز بنائے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ منہدم شدہ وکرم شیلا پل 30 نومبر تک ہر حال میں پوری طرح چالو کر دیا جائے گا، جس سے لاکھوں لوگوں کو آمدورفت کی اہم سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھاگلپور میں تقریباً 400 ایکڑ علاقہ میں صنعتی زون تیار کیا جارہا ہے۔ یہاں صنعتوں کے قیام سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور انہیں روزگار کے لیے ریاست سے باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے بہار سے باہر رہنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ریاست میں واپس آئیں اور بہار کی خوشحالی اور ترقی میں حصہ لیں۔ ریاستی حکومت انہیں صنعتوں کے قیام کے لیے ضروری زمین، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولت مہیا کرائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن اور سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کے خوشحال بہار کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی نے خواتین کو آگے بڑھانے میں تاریخی کام کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خواتین روزگار اسکیم کے تحت اب تک 1کروڑ 81لاکھ خواتین کے کھاتوں میں فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں اور باقی اہل خواتین کو 25 جولائی کو رقم منتقل کر دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ مونگیر سے بھاگلپور تک 83 کلو میٹر طویل گنگا میرین ڈرائیو کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، اور مکمل ہونے پر یہ بہار میں ایک بڑی توجہ کا مرکز بن جائے گی۔صبور سے راج محل بارڈ تک اس کی توسیع کی جائے گی،باہر سے بھی لوگ اسے دیکھنے آئیں گے ۔ کہلگاؤں کے قریب گنگا ندی کے کنارے واقع مشہور مذہبی مقام بٹیشور دھام مندر کے زائرین کی سہولت کے لیے ایک روپ وے تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھاگلپور خطے میں دو ہوائی اڈے تیار کیے جائیں گے جن میں سلطان گنج کا مجوزہ ایئر پورٹ بھی شامل ہے۔ اس سے خطے میں صنعت، سیاحت اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ پیرپینتی میں 2400 میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگایا جا رہا ہے۔ اس کی صلاحیت کو 1600 میگاواٹ سے بڑھایا جائے گا۔ اس پروجیکٹ میں 70 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سہیوگ شیویر کے تحت اب تک تقریباً 6لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے ساڑے پانچ لاکھ درخواستوں کا تصفیہ کر دیا گیا ہے ۔ اب تک صرف 4 افسران اور ملازمین کو تیسرا نوٹس دینے کی نوبت آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ افسران اور ملازمین عوامی شکایات کو بروقت حل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹنہ میں منعقدہ ریاستی سطح کے سہیوگ پروگرام کے دوران 129 درخواستیں موصول ہوئیں۔ میرے سامنے 100 لوگوں نے اپنے مسائل پیش کیے جنہیں فوری طور پر حل کیا گیا۔ عوام مالک ہو تے ہیں، ہم عوام کے خادم ہیں۔ ہم عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجر کسی بھی ذات یا طبقے سے ہوں اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جرام پیشہ کو یا تو بھاگلپور جیل جانا پڑے گا یا پھر بہار چھوڑنا پڑے گا۔ بہار میں جرائم پیشہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مجرموں کو جلد سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جا رہی ہے۔ سائبر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ سائبر کرائم میں ملوث جرائم پیشوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست سے ڈاکٹر مریضوں کو باہر کے ہسپتالوں میں ریفر نہیں کر سکیں گے۔ مریضوں کا علاج سب ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ہی کیا جائے گا۔ غیر ضروری طور پر مریضوں کو ریفر کرنے والے ڈاکٹروں پر کارروئی کی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے پروگرام میں شرکت سے قبل گوراڈیہہ میں نئے قائم ہونے والے سرکاری کالج میں تختی کی نقاب کشائی کرکے درس و تدریس کا آغاز کیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ نے نئے قائم گورنمنٹ کالج کاسیلا کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے لیبر ریسورسز اینڈ مائیگرنٹ ورکرز ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، انرجی ڈیپارٹمنٹ، ایجوکیشن محکمہ، ہیلتھ محکمہ، دیہی ترقیات محکمہ اور دیگر محکموں کی طرف سے لگائے گئے اسٹالوں کا دورہ کیا۔ پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ نے سیلف ہیلپ گروپس، چیف منسٹر کی انٹر کاسٹ میرج انسینٹیو گرانٹ اسکیم، بہار اسٹیٹ مائیگرنٹ لیبرر ایکسیڈنٹ گرانٹ اسکیم، چیف منسٹر کی نشچے سیلف ہیلپ الاؤنس اسکیم، اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ، ہنر مندر نو جوان پروگرام ، وزیر اعلیٰ ادیمی منصوبہ ، وزیر اعلیٰ سائیکل منصوبہ ، آیوشمان کارڈ ، وزیر اعظم ٹی بی نجات انڈیا مہم وغیرہ کے مستفیدوں کو علامتی چیک ، سرٹیفکیٹ دیا ۔ ا سموقعہ پر مقامی عوامی نمائندوں اور ضلع انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کو گلدستے، شال اورپھولو ں کا ہار پیش کر کے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقعہ پر نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے کمار چودھری، اعلیٰ تعلیم و قانون کے وزیر جناب سنجے سنگھ ٹائیگر، رکن پارلیمنٹ جناب اجے کمار منڈل، رکن اسمبلی جناب شوبھانند مکیش، رکن اسمبلی جناب روہت پانڈے،رکن اسمبلی جناب للت نارائن منڈل، رکن اسمبلی جناب متھن کمار، رکن اسمبلی جناب مراری پاسوان،رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر سنجیو کمار،رکن قانو ساز کونسل ڈاکٹر این کے یادو ، چیف سکریٹری مسٹر پرتیئے امرت، ڈی جی پی مسٹر ونے کمار، وزیر ا علیٰ کے سکریٹری مسٹر لوکیش کمار سنگھ، ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری مسٹر راجیو روشن، خوراک و صارفین تحفظ محکمہ کے سکریٹری اور بھاگلپور ضلع کے انچارج مسٹر دیپک آنند، ڈی ایم مسز النکیتا پانڈے ، ایس ایس پی مسٹر پرمود کمار یادو سمیت دیگر عوامی نمائندے ،اہم شخصیات ،سینئر افسران اور بڑی تعدا د میں عام لوگ موجود تھے۔