اساتذہ کی صلاحیت سازی کے لیے ’ٹیچر ٹریننگ یونیورسٹی‘ قائم کی جائے گی: وزیراعلیٰ
Awaz E Bihar••44 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 5 ستمبر: (اے بی این ) وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا ہے کہ بہار میں اساتذہ کی بہتر تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے الگ ٹیچر ٹریننگ یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ ریاست میں پرائمری سے اعلیٰ تعلیم، انجینئرنگ اور پولی ٹیکنک تک سات لاکھ سے زائد اساتذہ ہیں، جنہیں جدید تقاضوں کے مطابق وقتاً فوقتاً تربیت دی جائے گی۔پٹنہ کے شری کرشن میموریل ہال میں یومِ اساتذہ تقریب 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ کو مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کے لیے مائیکروسافٹ، گوگل اور دیگر تکنیکی اداروں کے تعاون سے بہار میں اے آئی ایکو سسٹم تیار کیا جائے گا۔ اس موقع پر محکمہ تعلیم اور گوگل کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ میٹرک امتحان کے سات دن کے اندر نتیجہ جاری کیا جائے، جبکہ انجینئرنگ اور پولی ٹیکنک کے نتائج 24 گھنٹے میں جاری کرنے کا نظام بنایا جائے گا۔ نمبروں پر اعتراض کرنے والے طلبہ کو 15 دن کے اندر دوبارہ امتحان کا موقع دینے کی تجویز بھی تیار کی جائے گی۔ امتحانی اصلاحات کے لیے ہائی کورٹ کے ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ریاست میں تقریباً 700 سرسوتی ودیا نیکتن ماڈل اسکول فروغ دیے جائیں گے، جہاں طلبہ کو NEET اور JEE کی تیاری کے ساتھ رات 12 بجے تک لائیو آن لائن اساتذہ کی سہولت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وکرم شیلا یونیورسٹی کے لیے زمین کے حصول کا عمل 15 جولائی کو مکمل ہوچکا ہے اور آئندہ ایک سال میں اسے عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ بہار میں بنارس ہندو یونیورسٹی (BHU) کا سینٹر قائم کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ 2004-05 میں پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ شرح 46 فیصد تھی، جو 2024-25 میں کم ہوکر 2 فیصد رہ گئی ہے۔ ہائر سیکنڈری سطح پر یہ شرح 83 فیصد سے کم ہوکر 7 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی پی ایس سی کے ذریعے 33 ہزار سے زائد اساتذہ کی تقرری کا عمل جاری ہے۔ مدرسہ اور سنسکرت بورڈ کے اساتذہ کی زیر التوا تنخواہوں کی ادائیگی شروع کردی گئی ہے، جبکہ غیر امداد یافتہ اساتذہ کے لیے الگ پے اسکیل کا انتظام کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے امتحانات اور نتائج کے نظام میں تیزی لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ میٹرک امتحان ختم ہونے کے سات دن کے اندر نتیجہ جاری کردیا جائے۔ اگر کسی طالب علم کو اپنے نمبروں پر اعتراض ہو تو اسے 15 دن کے اندر مقررہ سلاٹ میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔اسی طرح انجینئرنگ اور پولی ٹیکنک کے نتائج 24 گھنٹے کے اندر جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ امتحانی اصلاحات کے لیے ہائی کورٹ کے ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو امتحانی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنی تجاویز دے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امتحانی نظام کو غیر مرکزی بنانے اور امتحانی مرکز کے اعتبار سے نتائج جاری کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ طلبہ کو نتیجہ اور داخلے کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعلیٰ نے بہار کی قدیم تعلیمی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نالندہ کے بعد وکرم شیلا یونیورسٹی کے قیام کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وکرم شیلا یونیورسٹی کے لیے زمین کے حصول کا عمل 15 جولائی کو مکمل کرلیا گیا ہے اور آئندہ ایک سال میں اسے عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نالندہ اور وکرم شیلا جیسی عظیم درس گاہوں نے دنیا میں بہار کی علمی شناخت قائم کی تھی۔ حکومت اسی تعلیمی ورثے کو جدید دور کے تقاضوں سے جوڑنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔یومِ اساتذہ کے موقع پر وزیراعلیٰ نے گوپال گنج کی پشپا پرساد اور بانکا کی خوشبو کماری کو صدر جمہوریہ کی جانب سے اعزاز ملنے پر مبارکباد دی۔ تقریب میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔