دیہی علاقوں کے بعد اب شہری علاقوں میں داخل ہوا سیلاب کا پانی
Awaz E Bihar••60 ویوز•3 منٹ پڑھیں
بھاگلپور، 5 ستمبر (اے بی این)۔ ضلع میں گنگاندی میں پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤکے درمیان سیلاب کا پانی اور کٹاؤ مزید خراب ہو گیا ہے۔ جہاں ندی تیزی سے دیہی علاقوں کی زمینوں اور گھروں کو اپنی زد میں لے رہا ہے، سیلاب کا پانی اب بھاگلپور کے شہری علاقوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس سے معمولات زندگی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔سبور بلاک کے انگلش فرکا گاؤں میں گنگاندی کا شدید کٹاؤ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ تیز دھار کئی کنکریٹ کے مکانات کو بہا لے گیا ہے جس سے درجنوں خاندانوں کے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے۔ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ دریں اثنا بابو پور گاؤں مکمل طور پر سیلاب کے پانی کی زد میں آ گیا ہے، جس سے کسانوں کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور نقل و حمل میں خلل پڑا ہے۔سیلاب کی تباہی اب گاؤں تک محدود نہیں رہی۔ گنگا بھاگلپور شہر کے رہائشی علاقوں میں بھی داخل ہو گئی ہے۔ شہر کا مشہور مانک سرکار گھاٹ اور ملحقہ سڑک مکمل طور پر ڈوب گئی ہے۔ گھاٹ کے ساتھ رہنے والے رہائشی اور دکاندار محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔شہری علاقے میں سی ایم ایس ہائی اسکول کے کیمپس میں گنگا کے گھسنے سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اسکول کے میدان اور زیریں علاقے جھیل میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ آدم پور بنک کالونی میں گلیوں اور گھروں کے سامنے سیلابی پانی جمع ہوگیا ہے جو کہ پوش علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے مقامی باشندوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے جس سے وہ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلاب اور کٹاؤ کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ گاؤں اور شہر کے مکینوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر امدادی سامان، کشتیاں فراہم کی جائیں اور جانی و مالی نقصان کو روکنے کے لیے کٹاؤ روکنے کے کام کو تیز کیا جائے۔ ندی کے پانی کی سطح اگلے 12 گھنٹوں میں 15 سینٹی میٹر تک بڑھ گئی، جو آج صبح تک 32.70 میٹر تک پہنچ گئی۔ اس تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے ندی اب پشتوں کے اوپری حصے کو چھو رہی ہے۔بڑھتی ہوئی ندی کی سطح کی وجہ سے اسماعیل پور-بندٹولی پشتہ اور اس سے منسلک پیلر کافی دباو? میں ہیں۔ پیلر نمبر9 خاص طور پر ندی کی تیز لہروں کے براہ راست دباو? میں ہے۔ پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر پورے متاثرہ علاقے میں چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح اسی طرح سے بلند ہوتی رہی تو پشتوں کی حفاظت کیلئے چیلنج ہوگا۔محکمہ آبی وسائل نے فی الحال پشتے کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیا ہے لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے نگرانی کی سطح میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ محکمے کے اہلکار دن رات پشتے اور پیلر کی حالت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسسٹنٹ انجینئر ای نین بھاردواج نے بتایا کہ پشتے کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔ محکمہ کی ایک خصوصی ٹیم پانی کی سطح میں اتار چڑھاو? اور پشتوں کی حفاظتی صورتحال کے بارے میں بروقت رپورٹ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔