ڈیجیٹل کھاد فروخت نظام سے شفافیت اور جواب دہی میں اضافہ ہوگا: وجے کمار سنہا
Awaz E Bihar••27 ویوز•2 منٹ پڑھیں
کسانوں کو معیاری کھاد بروقت اور آسانی سے دستیاب کرانا محکمہ زراعت کی اولین ترجیحات
پٹنہ، 31 اگست:(اے بی این) کرشی بھون، میٹھاپور میں ’’کھیت بچاؤ، معیاری بیج اور کھاد آسانی سے فراہم کراؤ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ تربیتی پروگرام کا افتتاح وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کسانوں کو معیاری کھاد بروقت اور آسانی سے دستیاب کرانا محکمہ زراعت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ کھاد کی دستیابی، سپلائی اور فروخت کے نظام میں شفافیت، جواب دہی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ کھاد فروخت کے نظام کو ڈیجیٹل اور کسانوں پر مرکوز بنانے کے لیے محکمہ نے ایف ایس اے ایس(فرٹیلائزر سیل ایپلیکیشن سسٹم کا فریم ورک) کے ذریعے آن لائن نظام تیار کیا ہے۔ آئی ایف ایم ایس اور ایگری اسٹیک کے انضمام سے کھاد کی خرید و فروخت کے عمل کو مزید منظم، شفاف اور جواب دہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کسانوں کی زمین سے متعلق معلومات کسان رجسٹری میں موجود ہیں، ان کی ضروری تفصیلات کسان شناختی کارڈ کے ذریعے حاصل کی جائیں گی۔ دیگر کسان بھی ایف ایس اے ایس پر رجسٹریشن کرا کے کھاد حاصل کر سکیں گے۔ اس کے لیے متعلقہ کھیت کا کھاتہ اور خسرہ نمبر، رقبہ اور فصل کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔دستیاب معلومات کی بنیاد پر انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کی سفارشات کے مطابق کھاد کی ضرورت کا حساب لگایا جائے گا اور کسان کو کیو آر کوڈ فراہم کیا جائے گا۔ یہ کیو آر کوڈ تین دن تک مؤثر رہے گا۔ اس کے ذریعے کسان کوڈ میں درج مجاز کھاد فروش سے مقررہ طریقہ کار کے تحت ادائیگی کرکے کھاد خرید سکیں گے۔ مسٹر سنہا نے بتایا کہ اس نظام کا پائلٹ پروجیکٹ ویشالی اور شیخ پورہ اضلاع سے شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسے دیگر اضلاع تک توسیع دی گئی۔ یکم ستمبر سے 19 اضلاع میں اور 2 اکتوبر سے پورے بہار میں ڈیجیٹل کھاد فروخت نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس سے کھاد کی دستیابی، ذخیرہ، تقسیم اور فروخت کی بہتر نگرانی ممکن ہوگی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ تمام کھاد فروشوں کو نئے نظام کی تربیت دی جائے اور کسانوں کو کسان شناختی کارڈ، ایف ایس اے ایس رجسٹریشن اور مقررہ طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرائی جائے۔