جھارکھنڈ میں جاری طلبہ تحریک کے دوران اپوزیشن کا دوہرا معیارسامنے آگیا: نتیش مشرا
Awaz E Bihar••0 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 11 اگست :بہار حکومت کے انفارمیشن ٹکنالوجی، شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے وزیر نتیش مشرا نے منگل کو جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) امتحانات سے متعلق مسائل پر احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک میں کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے دوہرے معیار کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی دفتر میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مشرا نے کہا کہ طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل ملک کے لیے اہم ہیں، لیکن اپوزیشن مختلف ریاستوں میں طلبہ تحریکوں کو لے کر مختلف انداز اپنا رہی ہے۔ وزیر نے کہا کہ جب طلباء دہلی میں سڑکوں پر نکلے تو کانگریس اور اپوزیشن کے کئی سینئر لیڈران نے ان کی بھرپور حمایت کی، لیکن آج جب طلباء جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات سے متعلق مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں، اپوزیشن کوئی نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔ مسٹر مشرا نے کہا کہ جمہوریت میں طلباء کو پرامن اور مناسب طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ یہ سوال بھی ملک کے نوجوانوں کے ذہنوں میں اٹھ رہا ہے کہ دہلی اور جھارکھنڈ کے طلبہ کے احتجاج سے اپوزیشن کا موقف کیوں مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا سیاسی سہولت کے مطابق معاملات پر موقف بدلنا اپوزیشن کی متضاد پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ 15 دنوں سے پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان میں واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت ہر مسئلہ پر بحث اور جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ مسٹر مشرا نے کہا کہ پارلیمنٹ قواعد اور پارلیمانی روایات کے مطابق چلتی ہے۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کو ایوان میں اٹھائے اور حکومت کا جواب تحمل سے سنے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار موضوعات بدلنا اور پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپوزیشن صحیح معنوں میں سنجیدہ بحث نہیں کرنا چاہتی۔