15 اضلاع کے 50 لاکھ افراد متاثر، مرکز سے بڑے پیمانے پر امداد کی امید؛ درگا پوجا سے پہلے نقصانات کا مکمل جائزہ
پٹنہ، 16 ستمبر:(اے بی این ) سیلاب سے پیدا شدہ سنگین صورتحال کے درمیان ریاستی حکومت نے مرکز سے زیادہ سے زیادہ امداد کی امید ظاہر کی ہے۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود و دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں بدھ کو ’سنکلپ‘ سبھاگار میں منعقد اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات، راحت و بچاؤ کے کاموں اور آئندہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار اپنی جغرافیائی صورتحال کے باعث ہر سال سیلاب کی تباہ کاری کا سامنا کرتا ہے۔ اس سال تقریباً 15 اضلاع کے 88 بلاکوں میں 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت نے متاثرین کو راحت پہنچانے کے لیے ایک ہزار سے زائد کمیونٹی کچن چلائے، جہاں تقریباً ایک کروڑ 62 لاکھ افراد کو کھانا فراہم کیا گیا۔ ریلیف کیمپوں میں بھی متاثرین کو بنیادی سہولیات مہیا کی گئیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مکمل جائزہ درگا پوجا سے قبل مکمل کرلیا جائے گا اور تفصیلی رپورٹ مرکزی حکومت کو بھیجی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہار ہر سال سیلاب کی تباہی جھیلتا ہے، اس لیے صرف وقتی راحت کے بجائے سیلاب کے مستقل حل کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے سیلاب کے دوران بہار حکومت کی جانب سے کیے گئے راحت و بچاؤ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے سیلاب سے متعلق امداد کے میدان میں ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ فصلوں کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔ کیلا، مکئی، دھان سمیت متعدد فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔مرکزی وزیر نے کسانوں کے لیے بہتر معیار کے بیج فراہم کرنے کی بات کہتے ہوئے کہا کہ کیلا، مکئی اور لیچی جیسی فصلوں کے اعلیٰ معیار کے بیج کی فراہمی پر کام کیا جائے گا، تاکہ پیداوار کا معیار بہتر ہو، کسانوں کی آمدنی بڑھے اور زرعی مصنوعات کی بیرون ملک مارکیٹ تک رسائی کے امکانات بڑھیں۔انہوں نے سیلاب سے تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیر پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت کرانے، جیویکا دیدیوں کو مدد فراہم کرنے اور کسانوں کو معیاری بیج دستیاب کرانے کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ضروریات اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو آگاہ کیا جائے گا اور ریاست کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ تعاون فراہم کرنے کے لیے ضروری کارروائی کی جائے گی۔جائزہ میٹنگ میں چیف سکریٹری پرتیہ امرت نے سیلاب 2026 کی مجموعی صورتحال کی تفصیلات پیش کیں۔ مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے، زراعت، بجلی، صحت، آب رسانی، آبی وسائل، مویشی پروری اور دیگر شعبوں میں ہونے والے نقصانات اور راحت و بچاؤ کے اقدامات سے متعلق پریزنٹیشن دی۔وزیراعلیٰ نے مرکزی وزیر اور مرکزی ٹیم کے ذریعہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے فضائی سروے اور زمینی جائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زمینی صورتحال کو سمجھنے اور مرکز کے سامنے نقصانات کا درست اندازہ پیش کرنے میں مدد ملے گی۔