جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ہندی ہمارے لیے محض روزگار کی زبان نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہے: پنکج ترپاٹھی
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

ہندی ہمارے لیے محض روزگار کی زبان نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہے: پنکج ترپاٹھی

Awaz E Bihar•28 ستمبر، 2026 کو 01:49 PM•13 ویوز•4 منٹ پڑھیں

خدا بخش لائبریری میں ہندی پکھواڑا تقریب نوجوانوں کو اپنی شناخت پر فخر کا پیغام دیتا ہے

پٹنہ، 28 ستمبر:(اے بی این) معروف فلم اداکار پنکج ترپاٹھی نے نوجوانوں کو اپنی جڑوں اور شناخت سے جڑے رہنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی اصلیت کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ جتنے لوکل بنو گے، اتنے ہی گلوبل ہوگے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نہ احساسِ برتری میں مبتلا ہونا چاہیے اور نہ احساسِ کمتری کا شکار، کیونکہ دونوں رویے انسان کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ شکایت کی ذہنیت بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔وہ پیر کو خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ میں ہندی پکھواڑا کے تحت منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں پنکج ترپاٹھی کے علاوہ آریہ بھٹ نالج یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر گیان دیو منی ترپاٹھی اور ایس سی ای آر ٹی، پٹنہ کے ڈائریکٹر شری یتیندر کمار پال، آئی اے ایس سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔
پنکج ترپاٹھی نے اپنی بھوجپوری شناخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو میں بھوجپوری کی جو خوشبو ہے، وہی ان کی شناخت اور وقار کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہمیشہ خواہش رہتی ہے کہ ’’جس کمرے میں میں داخل ہوں، مجھ سے پہلے بہار داخل ہو جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ فلمی دنیا سے وابستہ ہونے کے باوجود کتابوں اور لوک فنون سے ان کا گہرا تعلق ہے اور انہیں ایسی جگہوں پر جانا پسند ہے جہاں کتابیں موجود ہوں یا لوک فنون کی محفلیں سجتی ہوں۔ہندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اداکاری کی بنیاد کتابوں سے جڑی ہوئی ہے۔ فلموں میں عام طور پر اسکرپٹ رومن رسم الخط میں دیا جاتا ہے، لیکن ہندی کو رومن میں پڑھنے سے وہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا جو دیوناگری میں پڑھنے سے ابھرتا ہے۔ اسی لیے وہ اپنا اسکرپٹ دیوناگری رسم الخط میں لینا پسند کرتے ہیں۔ ان کے بقول، ہندی ان کے لیے صرف روزگار کی زبان نہیں بلکہ ان کی زندگی کا حصہ اور جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہے۔بہار کی شناخت پر گفتگو کرتے ہوئے پنکج ترپاٹھی نے کہا کہ ریاست کی شرح خواندگی کم ہونے کے باوجود ملک میں بڑی تعداد میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر بہار سے آتے ہیں۔ ایسے میں بہار کی شناخت صرف مزدوروں کی ریاست کے طور پر کیوں ہو، یہ سوال غور طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر بہار پر لگے اس ٹیگ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس موقع پر خدا بخش لائبریری کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندی پکھواڑا منانے کا بنیادی مقصد سرکاری دفاتر اور عوامی سطح پر آسان اور عام فہم ہندی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی کو مقبول بنانے کے لیے مشکل الفاظ کے بجائے آسان زبان کا استعمال ضروری ہے۔ خدا بخش لائبریری کا ایک اہم مقصد ہندی کے قارئین کو اردو اور اردو کے قارئین کو ہندی سے قریب لانا بھی ہے۔
تقریب سے پروفیسر گیان دیو منی ترپاٹھی، شری یتیندر کمار پال اور پروفیسر صفدر امام قادری نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے ہندی کو عام فہم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زبان میں غیر ضروری طور پر مشکل سنسکرت الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اردو کو بھی عام فہم بنانے کے لیے ثقیل عربی و فارسی الفاظ کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو زبانوں کے امتزاج سے اگر کوئی آسان اور بامعنی لفظ وجود میں آتا ہے تو اسے قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
تقریب میں پنکج ترپاٹھی کو سننے کے لیے لائبریری کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ نوجوان اپنے پسندیدہ اداکار کو سننے کے لیے خاصے پُرجوش نظر آئے اور ان کی گفتگو کا استقبال بار بار تالیوں کی گونج سے کیا گیا۔ اختتام پر حاضرین نے پُرجوش تالیوں کے ساتھ انہیں الوداع کہا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ذاکر حسین نے انجام دیے۔
شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026