پٹنہ، 7 مئی (اے بی این) طلبہ سیاست سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما وجے کمار سنہا نے تنظیم میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی، اسمبلی اسپیکر اور نائب وزیر اعلیٰ تک کا طویل سیاسی سفر طے کیا ہے۔ بہار کی سیاست میں صاف گوئی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھے جانے والے وجے کمار سنہا نے آج دارالحکومت پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کا سیاسی سفر جدوجہد، تنظیمی مہارت اور قیادت کی صلاحیت کی بہترین مثال مانا جاتا ہے۔ وجے کمار سنہا کی پیدائش 1967 میں بہار کے ضلع لکھسریائے میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی زندگی ایک سادہ ماحول میں گزری۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی انہیں سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی رہی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم بہار ہی سے حاصل کی۔ طلبہ سیاست کے دوران وہ اے بی وی پی سے وابستہ ہوئے اور یہیں سے ان کے سیاسی کیریئر کی شروعات ہوئی۔ وہ بی جے پی کے ایک سرگرم رہنما رہے ہیں اور تنظیم میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے بعد انتخابی سیاست میں قدم رکھا۔ سنہا پہلی بار فروری 2005 میں لکھسریائے اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، تاہم اکتوبر 2005 کے انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے 2010، 2015، 2020 اور 2026 میں مسلسل چار بار کامیابی حاصل کی۔ اپنے حلقے میں سڑک، تعلیم اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے انہوں نے مضبوط عوامی بنیاد قائم کی۔ سال 2017 میں نتیش کمار کی حکومت میں انہیں محکمہ محنت و وسائل کی ذمہ داری دی گئی۔ وزیر کے طور پر انہوں نے روزگار، ہنر مندی اور مزدوروں کی فلاحی اسکیموں پر کام کیا۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات کے بعد انہیں بہار اسمبلی کا اسپیکر بنایا گیا، جہاں انہوں نے ایوان میں نظم و ضبط کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا۔ مہاگٹھ بندھن حکومت کے قیام کے بعد بی جے پی نے انہیں اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بنایا، جہاں انہوں نے قانون و انتظام، بدعنوانی اور انتظامی مسائل پر حکومت کو مسلسل نشانہ بنایا۔ جنوری 2024 میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت بننے کے بعد انہوں نے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ سابق نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا اب ایک بار پھر نئی حکومت میں اہم ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں۔ تنظیم میں مضبوط گرفت، ایوان میں جارحانہ انداز اور انتظامی تجربے کے باعث پارٹی قیادت ان پر مسلسل اعتماد ظاہر کرتی رہی ہے۔ رکن اسمبلی سے لے کر وزیر، اسمبلی اسپیکر، قائدِ حزبِ اختلاف، نائب وزیر اعلیٰ اور اب سمراٹ کابینہ میں شمولیت-یہ تمام مناصب بہار کی سیاست میں ان کے مضبوط اثر و رسوخ کی واضح نشانی ہیں۔