اعداد و شمار مضبوط ہوں گے تو منصوبہ بندی بھی مؤثر ہوگی
Awaz E Bihar••37 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 24 ستمبر: محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے تحت اقتصادیات و شماریات ڈائریکٹوریٹ، بہار کی جانب سے زرعی شماریات سے متعلق افسران و اہلکاروں کی صلاحیت سازی کے لیے دو روزہ ریاستی سطح کی تربیتی ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہے۔ پروگرام میں منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر بھگوان سنگھ کشواہا نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ کے انڈر سکریٹری شیام بہاری مینا، اقتصادیات و شماریات ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نورالحق شیوانی سمیت دیگر سینئر افسران موجود تھے۔تربیتی پروگرام میں ریاست کے تمام ڈویژنوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر (شماریات)، ضلع شماریاتی افسران اور دیگر متعلقہ افسران و اہلکار شریک ہو رہے ہیں۔ جنوبی بہار کے لیے تربیت 22 اور 23 ستمبر، جبکہ شمالی بہار کے لیے 24 اور 25 ستمبر کو منعقد کی جا رہی ہے۔تربیت کا مقصد زرعی شماریات کے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانا، اعداد و شمار کی درستگی، اعتبار اور بروقت دستیابی بہتر کرنا، متعلقہ افسران و اہلکاروں کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ اور شماریاتی تجزیے کے ذریعے زرعی شعبے کی بہتر صورت حال کا اندازہ لگانا ہے۔ورکشاپ کا مقصد زرعی اعداد و شمار کے جمع کرنے، ریکارڈ رکھنے، تصدیق اور تجزیے کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس دوران میدانی سروے، اعداد و شمار کے معیار، ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال اور شماریاتی تجزیے کے جدید طریقوں پر شرکا کو عملی تربیت دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق زرعی شعبے سے متعلق درست اور بروقت اعداد و شمار بہتر منصوبہ بندی، وسائل کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی اسکیموں کے کامیاب نفاذ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تربیت کے ذریعے افسران و اہلکاروں کی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے عمل کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تربیت کے دوران زرعی سرگرمیوں سے متعلق اعداد و شمار کے حصول، میدانی سروے، ڈیٹا کے معیار اور شماریاتی تجزیے کے طریقۂ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جدید اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال، اعداد و شمار کے منظم ریکارڈ اور دستیاب معلومات کے مؤثر تجزیے سے متعلق شرکا کی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی بھگوان سنگھ کشواہا کی شرکت سے پروگرام کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔ محکمہ کی ترجیحات میں ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی، ترقیاتی اسکیموں کی نگرانی اور ان کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانا شامل ہے۔