ضیاء الحسن حمیدی مدیر آواز بہار بہار میں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ریاست کی مشترکہ تہذیبی ادبی اور سماجی وراثت کا اہم حصہ ہے۔ اردو کو بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اور ریاست نے وقتاً فوقتاً اردو کے فروغ کے لیے مختلف اعلانات اور پروگرام بھی کیے ہیں۔ لیکن اردو کی موجودہ صورتِ حال پر نظر ڈالیں تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہےکہ کیا جشنِ اردو کی تقریبات اور سرکاری اعلانات اردو کی عملی ترقی میں تبدیل بھی ہوئے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک طرف حکومت کی سطح پر اردو کی محبت اس کے فروغ اور اسکولوں میں اردو تعلیم کی ضرورت کی بات ہوتی رہی جبکہ دوسری طرف 2020 میں جاری محکمۂ تعلیم کے بعض احکامات کو اردو سے وابستہ حلقوں نے اردو کی تعلیمی حیثیت کمزور کرنے والا قدم قرار دیا۔ 25 مارچ 2017 کو پٹنہ کے شری کرشن میموریل ہال میں دو روزہ جشنِ اردو کا افتتاح ہوا۔ اس موقع پر اس وقت کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اردو کو محبت، خیرسگالی، انقلاب اور تبدیلی کی زبان قرار دیتے ہوئے اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ بہار کے ہر اسکول میں اردو کی تعلیم کا نظم ہونا چاہیے۔یہ بیان اردو کے حلقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ وزیراعلیٰ کی سطح سے ہر اسکول میں اردو تعلیم کی بات سامنے آئی تھی۔ اس وقت یہ امید پیدا ہوئی کہ اردو کو محض ادبی اور ثقافتی زبان کے بجائے اسکولی تعلیم کے ایک مضبوط حصے کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔لیکن چند برس بعد اردو کی تعلیمی حیثیت سے متعلق جو انتظامی فیصلے سامنے آئے انہوں نے اس امید کو سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا۔ 15 مئی 2020 کے محکمۂ تعلیم کے مکتوب نمبر 799 اور 28 اگست 2020 کے نوٹیفکیشن نمبر 155 کو خاص طور پر زیر بحث لانا ضروری ہے۔ نوٹیفیکیشن نتیجے میں میٹرک اور پلس ٹو سطح پر اردو کی لازمی حیثیت متاثر ہوئی اور اسے اختیاری مضمون کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ منظور شدہ مانک منڈل میں لازمی اردو اساتذہ کے عہدے کو ختم کیا گیا۔ اردو کے لیے ’’مانک منڈل‘‘ کا معاملہ محض ایک انتظامی اصطلاح نہیں۔ اس کا براہِ راست تعلق اس بات سے ہے کہ اسکولوں میں اردو پڑھانے کے لیے کتنے اساتذہ کی ضرورت تسلیم کی جائے گی اور کن حالات میں اردو کی تدریس کا باقاعدہ انتظام ہوگا۔اگر کسی مضمون کے لیے منظور شدہ تدریسی عہدے کم ہوتے ہیں تو اس کا اثر صرف موجودہ اساتذہ پر نہیں پڑتا بلکہ مستقبل میں ہونے والی بھرتیوں، طلبہ کے انتخاب اور پوری تعلیمی ساخت پر پڑتا ہے۔اسی لیے اردو سے وابستہ افراد کا بنیادی مطالبہ یہ رہا ہے کہ اردو کو اس کی آبادی سرکاری حیثیت اور تعلیمی ضرورت کے مطابق اسکولوں میں مناسب جگہ دی جائے۔ جشنِ اردو کا مقصد صرف مشاعرہ، سیمینار یا ادبی پروگرام منعقد کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ جشن اس وقت بامعنی ہوگا جب اس کے نتیجے میں اردو پڑھنے والے بچوں اردو اساتذہ اردو صحافت اردو کتابوں سرکاری دفتروں اور اردو سے وابستہ روزگار کے مواقع میں حقیقی اضافہ نظر آئے۔2017 میں ہر اسکول میں اردو تعلیم کے نظم کی خواہش کا اظہار ایک طرف تھا، جبکہ 2020 کے احکامات کے بارے میں اردو حلقوں کی تشویش دوسری طرف۔ یہی تضاد آج بہار میں اردو کے مستقبل پر سنجیدہ بحث کی بنیادہے۔ موجودہ جشنِ اردو کے موقع پر اردو سے وابستہ حلقوں کے سامنے چند بنیادی سوالات رکھنا ضروری ہے: کیا بہار کے ہر اسکول میں اردو پڑھانے کا عملی انتظام ہوگا؟ اردو کے منظور شدہ تدریسی عہدوں کی موجودہ تعداد میں اضافہ ہوگا کیا اردو کو اس کی سرکاری حیثیت کے مطابق نصاب میں مناسب مقام حاصل ہے؟ سرکاری دفاتر میں دوسری سرکاری زبان کے طور پر اردو کا عملی استعمال کتنا ہے؟ اور سب سے اہم سوال: 2017 میں ہر اسکول میں اردو تعلیم کے جس خواب کا اظہار کیا گیا تھا، وہ 2026 میں کہاں تک پہنچا؟ اردو کو صرف ماضی کی عظمت بیان کرکے زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لیے جدید اور عملی حکمت عملی درکار ہے۔ جشنِ اردو اسی وقت کامیاب سمجھا جائے گا جب جشن کے اختتام پر اردو کے مستقبل کے لیے کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے آئے۔ بہار نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا اردو کے نام پر جشن منائے اس کے فروغ کے اعلانات کیے اور اس زبان کی تہذیبی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اعلانات سے آگے بڑھ کر اردو کے لیے عملی تعلیمی اور انتظامی اقدامات کیے جائیںاردو کے لیے سب سے بڑا جشن یہی ہوگا کہ ہر اس بچے کو اردو پڑھنے کا حق اور موقع ملے جو اسے پڑھنا چاہتا ہے۔ ہر ضرورت مند اسکول کو اردو استاد ملے اور دوسری سرکاری زبان کا درجہ کاغذ سے نکل کر سرکاری نظام میں بھی دکھائی دے۔ محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ، حکومت بہار کے زیر اہتمام پہلاجشن اردو 2017 میں منایاگیا جس کی قیادت امتیاز احمد کریمی نے کی وہ اس وقت ڈائریکٹر تھے اس کے بعد قدرے حالات بدلتے گئے اور جشن اردو کا جشن بھی دھیرے دھیرے اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا ‘ ڈائریکٹر آتے گئے اور جاتے رہے لیکن جشن اردوکا جشن نہیں منایا جا سکا ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موجودہ جشن کے پروگرام میں امتیاز احمد کریمی کو ہی فراموش کردیاگیا۔۹سال بعد موجودہ ڈائریکٹرایس ایم پرویز عالم نے کوشش کی اور اس میں کامیابی حاصل کی اور جشن اردو منانے کا اعلان ہوگیا۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ایس ایم پرویز عالم کے پیشانی پر جشن اردو کا تمغہ چسپاں کردیا جائے گا اور اردو آبادی یہ کہتی رہے گی کہ انہوں نے جشن اردو مناکر دیکھایا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آخر یہ جشن کس بات کی ہے ۔ بہار میں اردو کی حالت یہ ہے کہ بہار اردو اکادمی تقریبا 8سالوں سے وادی خموشاں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اکادمی سے نکلنے والا رسالہ زبان وادب بھی افسران کی چابک دستی سے خاموشی کی چادر لپیٹ چکی ہے۔ گورنمنٹ اردو لائبریری بھی گونگی نظر آنے لگی ہے۔ صرف عمارتیں اکادمی ہونے کی گواہی دے رہی ہے اور لائبریری کی کتابیں دھول میں مست ہیں اور اردو مشاورتی کمیٹی حکومتی ٹکڑوں پر پلنے والے افراد کی نذر ہو چکی ہے ۔ڈگری کالجوں کے قیام کا اعلان ہوا لیکن اس میں اردو کیلئےکوئی جگہ نہیں اردو داں طبقے میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے اپنے نام و نمود کیلئے گورنر سے ملاقات کی اور خبریں ہواؤں میں تیرنے لگی کہ اردو کا مسئلہ حل ہوگیا حالانکہ سرکار نے کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا۔ اس پس منظر میں آپ ہی بتائیں کہ کس چیز کا جشن منائیں۔ اردو ڈائریکٹوریٹ کو بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے ۔گزشتہ جشن اردو کے پروگرام میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نتیش کمار شامل ہوئے تھے لیکن اس بار وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی عدم شمولیت اردو کے مستقبل پر گرہن ضرور لگا رہا ہے حالانکہ نائب وزیر اعلیٰ وجے چودھری اور قابل قدر افسران ضرور شامل ہیں ۔بہار کے شعرا ادباء و صحافیوں کی تعدد میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہواجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہار کے افسران کو بیرون بہار کے افراد زیادہ پسند ہیں ۔ بہر حال ان تمام گفتگو کے بعد ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ جشن اردو منائیں لیکن اردو کے وجود کو بچاکر منائیں۔ورنہ آنے والی نسلیں بھی اردو سے نابلد ہوتی رہے گی اور ہم جشن اردو مناتے رہیں گے۔اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ جشن اردو منایا جارہا ہے یا قتل اردو۔(قسط اول)……