جاوید اختر کی فلمی دنیا میں واپسی: دو نئی فلموں کے اسکرپٹ مکمل، جلد شروع ہوگی پروڈکشن
Awaz E Bihar••10 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ،8 اپریل (اے بی این) بالی ووڈ کے شہرہ آفاق نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے طویل عرصے بعد فلمی کہانی کاری کی دنیا میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ پٹنہ میں منعقدہ 'کتاب اتسو کی اختتامی تقریب میں اپنی نئی کتاب 'سیپیاں‘ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے دو فلموں کے اسکرپٹ مکمل کر لیے ہیں، جن پر جلد ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔جاوید اختر، جنہوں نے 70 اور 80 کی دہائی میں سلیم خان کے ساتھ مل کر 'شعلے، دیوار ، 'زنجیر اور 'ڈان جیسی بلاک بسٹر فلمیں تخلیق کیں، آخری بار 2004 میں اپنے بیٹے فرحان اختر کی فلم 'لکشیہ کا اسکرپٹ لکھا تھا۔ تقریب کے دوران انہوں نے بتایا"کرونا کے ایام میں، میں نے دوبارہ اسکرپٹ رائٹنگ کی طرف توجہ دی اور اب دو فلموں کی کہانیاں مکمل ہیں۔ میں یہ اسکرپٹ اپنے بچوں، فرحان اختر اور زویا اختر کو سناؤں گا۔ اگر انہیں پسند آئے تو ٹھیک، ورنہ میں دوسرے پروڈیوسرز کے پاس جاؤں گا۔"انہوں نے مزید کہا کہ 1981 میں ہدایت کار یش چوپڑا کی فلم "سلسلہ" سے انہوں نے بطور نغمہ نگار کام کا آغاز کیا۔ اس فلم کا گیت "دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے..." بے حد مقبول ہوا، جس کے بعد انہوں نے متعدد یادگار گیت تحریر کیے۔ تاہم اب انہوں نے فلمی گیت کم لکھنے شروع کر دیے ہیں۔ جاوید اختر نے آج کل کے گانوں میں گہرائی کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیشہ ورانہ طور پر کافی کام کر چکے ہیں، لیکن موجودہ حالات ان کے مزاج کے مطابق نہیں۔ انہوں نے 90 کی دہائی کے کچھ فحش گانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی بڑے بجٹ کی فلمیں صرف اس لیے ٹھکرا دیں کیونکہ ان میں غیر شائستہ زبان کے استعمال کا تقاضا کیا گیا تھا۔ جاوید اختر نے زور دے کر کہا کہ ان کے طویل کریئر میں ایک بھی ایسا نغمہ نہیں ہے جس میں فحش یا نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔اپنی نئی کتاب 'سیپیاں‘ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس میں انہوں نے کبیر، تلسی، رحیم اور ورند جیسے عظیم شعراء کے منتخب دوہوں کی سادہ زبان میں تشریح کی ہے، تاکہ نئی نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہے۔