’’علم ہی طاقت ہے‘‘ کی جگہ ’’طاقت ہی علم ہے‘‘ کا نظریہ انسانی تہذیب کے لیے خطرناک:پروفیسر شمبھوناتھ
Awaz E Bihar••9 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 5 اگست: (اے بی این ) علم، تہذیب، جمہوریت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے درمیان علم کے مستقبل پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں یومِ خدا بخش خاں کے موقع پر منعقدہ سالانہ خدا بخش لکچر میں ملک کے ممتاز مفکر، ناقد اور ادیب پروفیسر شمبھوناتھ نے کہا کہ آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ’’علم ہی طاقت ہے‘‘ کے تصور کو بدل کر ’’طاقت ہی علم ہے‘‘ کا نظریہ فروغ دیا جا رہا ہے، جو انسانی تہذیب، جمہوری اقدار اور فکری آزادی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت علم کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ضرور ہے، مگر یہ انسانی جستجو، تنقیدی شعور، اخلاقی بصیرت اور تخلیقی فکر کا ہرگز متبادل نہیں بن سکتی۔ یومِ خدا بخش خاں کے موقع پر خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں منعقد ہونے والے سالانہ خدا بخش لکچر میں ملک کے ممتاز ادیب، مفکر، ناقد اور بھارتیہ بھاشا پریشد، کولکاتا کے ڈائرکٹر پروفیسر شمبھوناتھ نے ’’علم کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر نہایت فکرانگیز اور بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تہذیب کی پوری تاریخ علم کی مسلسل جستجو، سوال اٹھانے اور سچائی کی تلاش کی تاریخ ہے۔ آج جب دنیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے تو سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا علم اپنی اصل روح برقرار رکھ سکے گا یا محض معلومات اور طاقت کا آلہ بن کر رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ علم کی روایت کسی ایک زمانے یا ایک ایجاد کی مرہونِ منت نہیں بلکہ صدیوں کی فکری ریاضت کا نتیجہ ہے۔ یہ تصور غلط ہے کہ علم کا فروغ آج کے ڈیجیٹل دور کی پیداوار ہے۔ ہر عہد میں اہلِ علم نے تحقیق، مکالمہ، تنقید اور تجربے کے ذریعے انسانی فکر کو آگے بڑھایا ہے۔ فرق صرف ذرائع کا آیا ہے، علم کی اصل اقدار نہیں بدلیں۔ پروفیسر شمبھوناتھ نے کہا کہ موجودہ دور میں ایک خطرناک رجحان فروغ پا رہا ہے جس میں کتابوں، تحقیق اور دلیل کے بجائے بھیڑ، شور اور طاقت کو حق و صداقت کا معیار بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا ’’علم ہی طاقت ہے‘‘ لیکن آج عملاً یہ تصور پیدا کیا جا رہا ہے کہ ’’طاقت ہی علم ہے‘‘۔ یہ تبدیلی نہ صرف علم بلکہ جمہوریت، تہذیب اور انسانی آزادی کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ دنیا میں جمہوریت، رواداری، تنقیدی فکر اور تہذیبی اقدار کس حد تک محفوظ رہتی ہیں۔ اگر سوال پوچھنے، اختلاف کرنے اور آزادانہ سوچنے کی روایت کمزور ہو گئی تو علم بھی اپنی تخلیقی قوت کھو دے گا۔ علم صرف یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں یا لائبریریوں میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کی نچلی سطح، عوامی تجربات اور روزمرہ زندگی کے مشاہدات سے بھی اس کی تعمیر ہوتی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت یقیناً علم کے حصول کو آسان بنا رہی ہے، لیکن اے آئی انسانی شعور، احساس، اخلاقی ذمہ داری اور تخلیقی بصیرت کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ مشین معلومات فراہم کر سکتی ہے مگر حکمت، بصیرت اور انصاف پیدا نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی تنقیدی صلاحیت اور فکری آزادی کو ہر حال میں محفوظ رکھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب علم میں مزاح، سوال اور خود احتسابی ختم ہو جائے تو وہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ علم اور انصاف کا رشتہ لازمی ہے کیونکہ انصاف علم کے بغیر اندھا اور علم انصاف کے بغیر بے مقصد ہو جاتا ہے۔ آج اگر معاشرے میں سطحی معلومات کو علم کا نام دیا جا رہا ہے تو اس کا نتیجہ جہالت، تعصب اور فکری غلامی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور کی حکومتیں آزاد فکر اور حقیقی علم سے خوفزدہ رہی ہیں کیونکہ باشعور انسان کو غلام بنانا آسان نہیں ہوتا۔ تقریب کے آغاز میں ممتاز اردو و ہندی دانشور پروفیسر صفدر امام قادری نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’علم کا مستقبل‘‘ موجودہ عہد کا سب سے اہم موضوع ہے، کیونکہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے پروفیسر شمبھوناتھ کی علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فکر نئی نسل کے لیے رہنمائی کا سرمایہ ہے اور ان کے خیالات عصر حاضر کے فکری بحران کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے بہار حکومت کے سابق چیف سکریٹری شری تری پُراری شرن نے کہا کہ پروفیسر شمبھوناتھ کے لکچر کی تعریف کرتے ہوئے بہت معرکے کی بات کی طرف اشارہ کیا کہ اے آئی کی اندھ بھکتی کیوں کی جا رہی ہے۔ یہ ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتا ہے اور ایسا ماحول بنانا چاہتا ہے جس میں جستجو پیدا ہی نہ ہو۔ اس ماحول کے مضر اثرات سے ہمیں واقف ہونا ہوگا اور ایسے ماحول کی تعمیر کرنی ہوگی جہاں ہمارا علم آزاد رہے اور ہمارے اندر جستجو کرنے کی صفت پیدا ہو۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ڈیٹا کو محفوظ اور پراسیس کر سکتی ہیں، لیکن انسانوں کی سمجھ، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ علم کو ذہانت میں بدلتی ہے۔ آنے والے وقت میں علم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر باآسانی دستیاب ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں نئی نسل میں سوال کرنے، تحقیق کرنے اور سچ کی تلاش کا جذبہ پروان چڑھے۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر صفدر امام قادری نے مہمانِ خصوصی، شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ذاکر حسین نے انجام دیے۔ اس موقع پر علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، محققین، طلبہ اور دانشوروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے پروفیسر شمبھوناتھ کے خطاب کو عصر حاضر کے فکری چیلنجز پر ایک اہم دستاویز قرار دیا۔