انسانی اسمگلنگ کے خلاف بڑا ایکشن، ’زیرو ٹالرنس‘ کا اعلان
Awaz E Bihar••40 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 8 اگست:(اے بی این ) بہار میں بچوں اور کمزور طبقات کو انسانی اسمگلنگ کے شکنجے سے بچانے کے لیے حکومت نے اب زیرو ٹالرنس کا سخت پیغام دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے واضح کیا کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے ساتھ لاپتہ بچوں کی بازیابی، متاثرین کی بازآبادکاری، انہیں ہنر اور روزگار سے جوڑنا اور عزت و وقار کے ساتھ نئی زندگی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے ’نیا سویرا 3.0‘ مہم کے ذریعے بیداری، روک تھام، ریسکیو اور بحالی کی کارروائیوں کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پٹنہ کے گیان بھون میں محکمہ داخلہ، بہار کے زیر اہتمام منعقدہ مشرقی زون کانفرنس کم کنسلٹیشن آن مسنگ چلڈرن اینڈ ہیومن ٹریفکنگ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ صرف ایک قانونی جرم نہیں بلکہ بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے مستقبل پر حملہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے پولیس، انتظامیہ، عدلیہ، مختلف ریاستوں اور سماجی تنظیموں کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کے خطرے کی بڑی وجوہات میں معاشی بدحالی، روزگار کے محدود مواقع اور مجبوری کی ہجرت شامل ہیں۔ اسی لیے حکومت ایک طرف اسمگلروں کے خلاف شکنجہ کس رہی ہے تو دوسری جانب ریاست میں روزگار، ہنرمندی اور صنعتی مواقع بڑھانے پر زور دے رہی ہے، تاکہ لوگ مجبوری میں نقل مکانی نہ کریں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں لاپتہ بچوں کے معاملات کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور اب تک 1200 سے زائد لاپتہ بچوں کو بازیاب کیا جا چکا ہے۔ ’سہیوگ شیویر‘ کے ذریعے عوامی شکایات کے فوری ازالے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں اب تک 6 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں اور 5.50 لاکھ سے زیادہ معاملات حل کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’نیا سویرا 1.0‘ اور ’نیا سویرا 2.0‘ کے بعد اب ’نیا سویرا 3.0‘ کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے خلاف مہم کو نئی رفتار دی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد متاثرین کو صرف اسمگلنگ کے چنگل سے نکالنا نہیں بلکہ انہیں ہنرمندی، روزگار، خودکفالت اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں بڑے پیمانے پر صنعتی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں اسٹیل صنعت سے متعلق مختلف گروپوں کے ساتھ 51 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ روزگار کے ایسے مواقع پیدا ہوں کہ بہار کے لوگ ’’کرم بھومی سے جنم بھومی‘‘ واپس آنے کے قابل ماحول حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ بہار میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف اسے تعلیم، ہنر، روزگار اور مناسب مواقع سے جوڑنے کی ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے معاشی خودکفالت کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کی مجموعی ترقی کے لیے سیلاب جیسے دیرینہ مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔ شمالی بہار میں سیلاب کے اثرات کم کرنے کے لیے پانی کے انتظام اور آبپاشی کے شعبے میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں آبپاشی کی سہولیات کو وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ گنگا، گنڈک (ناراینی) اور کوسی جیسی بڑی ندیوں کے بہتر آبی انتظام اور باہمی ربط کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ’خوشحال بہار‘ کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے کانفرنس میں شریک ماہرین، عدلیہ، پولیس و انتظامیہ کے افسران اور مختلف ریاستوں کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ بہار حکومت لاپتہ بچوں اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی، متاثرین کی بازیابی اور بازآبادکاری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ کانفرنس کے دوران انسانی اسمگلنگ کے مضر اثرات، اس کی روک تھام اور ضروری اقدامات پر ایک ویڈیو فلم بھی پیش کی گئی۔پروگرام میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اے۔ امان اللہ، پٹنہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راجیو رنجن پرساد، ایڈووکیٹ جنرل بہار ایس ڈی سنجے، سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کمیٹی کی چیئرپرسن اور مرکزی حکومت کی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ارچنا پاٹھک دوے، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج مکتا گپتا سمیت متعدد مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر پٹنہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس موہت جے شاہ، چیف سکریٹری پرتیئے امرت، ڈی جی پی ونے کمار، سابق ڈی جی پی پی۔ ایم نائر، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کمیٹی کے ارکان اور متعدد سینئر وکلا و افسران بھی موجود تھے۔حکومت کا واضح پیغام: انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ متاثرین کو صرف بازیاب کرانا کافی نہیں؛ انہیں ہنر، روزگار، تحفظ اور عزت کے ساتھ نئی زندگی فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔