مانسون اجلاس کے پہلے روز اقلیتی مسائل پر اختر الایمان کا شدید احتجاج
••0 views•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 21 جولائی:(اے بی این ) بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے پہلے روز آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی جنرل سکریٹری اور بہار اسمبلی میں پارٹی کے قائد اختر الایمان نے اقلیتوں سے متعلق اہم مسائل کو لے کر اسمبلی احاطہ میں احتجاج کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت پر اقلیتی طبقے کے تعلیمی، سماجی اور معاشی مسائل کو مسلسل نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہیں کیے تو یہ مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر جائیں گے۔احتجاج کے دوران اختر الایمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست کے مدارسِ ملحقہ کے اساتذہ کی برسوں سے رکی ہوئی تنخواہیں بلا تاخیر بحال کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں اساتذہ طویل عرصے سے مالی بحران کا شکار ہیں اور ان کے اہلِ خانہ شدید معاشی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونا نہ صرف ان کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ریاست کے تعلیمی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے حکومت کی پالیسی پر بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اردو کو بہار کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن زمینی سطح پر اس حیثیت کا احترام نہیں کیا جا رہا۔ ریاست کے سرکاری ڈگری کالجوں میں اردو کے شعبے فعال نہیں ہیں، کئی جگہ اردو اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور منظور شدہ نشستوں پر تقرری نہ ہونے کے سبب طلبہ کو اپنی مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اختر الایمان نے مطالبہ کیا کہ بہار کے تمام سرکاری کالجوں میں اردو کی تعلیم کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جائے، اردو کے تمام منظور شدہ شعبوں اور نشستوں کو بحال کیا جائے، خالی اسامیوں پر فوری تقرری کی جائے اور جہاں اردو کی تعلیم کا انتظام موجود نہیں ہے وہاں جلد از جلد اس کا آغاز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی، زبان کے فروغ اور روزگار سے متعلق مسائل کو نظر انداز کرنا آئینِ ہند کے مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتی برادری کے آئینی حقوق کا تحفظ کرے اور ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرے۔اختر الایمان نے مزید کہا کہ مدارسِ ملحقہ کے اساتذہ، اردو زبان اور اقلیتی اداروں سے وابستہ مسائل کوئی نئے نہیں ہیں، بلکہ برسوں سے حل طلب ہیں۔ حکومت اگر واقعی تعلیم اور سماجی انصاف کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر ان مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے اقلیتوں کے مسائل، مدارسِ ملحقہ کے اساتذہ کی تنخواہوں اور اردو زبان سے متعلق مطالبات پر جلد فیصلہ نہیں کیا تو ایوان کے اندر اور باہر جمہوری انداز میں احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔مانسون اجلاس کے پہلے روز ہونے والے اس احتجاج نے ایک بار پھر بہار میں اقلیتی تعلیم، مدارسِ ملحقہ اور اردو زبان کے مسائل کو سیاسی و عوامی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔اختر الایمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری ڈگری کالجوں میں اردو اساتذہ کی بحالی کی جائے۔ اور جہاں اردو کی تدریس کا مناسب انتظام نہیں ہے وہاں مستقل بنیادوں پر اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اردو زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ طلبہ کے آئینی اور تعلیمی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔انہوں نے مدارسِ ملحقہ کے اساتذہ کی رکی ہوئی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو مزید طول دینے کے بجائے ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، تاکہ اساتذہ کو معاشی دشواریوں سے نجات مل سکے۔اختر الایمان نے کہا کہ اقلیتی طبقے کے تعلیمی مسائل کو نظر انداز کرنا ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہجوم کے ہاتھوں قتل (لنچنگ) جیسے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین چیلنج ہیں اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ہونی چاہیے تاکہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔اختر الایمان نے مطالبہ کیا کہ لنچنگ کے تمام مقدمات کو خصوصی بنیادوں پر فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلایا جائے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی ہی عوام کے قانون پر اعتماد کو مضبوط کر سکتی ہے۔انہوں نے حکومت سے یہ بھی اپیل کی کہ لنچنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے، متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی بے گناہ شہری کو ہجومی تشدد کا نشانہ نہ بننا پڑے۔اپنے خطاب میں اختر الایمان نے مطالبہ کیا کہ لنچنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جائے اور جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی مؤثر روک تھام ہو سکے۔