نالندہ کے بھرپور فکری ورثے کو مختلف مواصلاتی ذرائع سے لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت: گورنر
Awaz E Bihar••9 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 10 اگست (اے بی این) بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین (ریٹائرڈ) نے پیر کو کہا کہ نالندہ کے بھرپور فکری اور تہذیبی ورثے کو تحریر اور مختلف مواصلاتی ذرائع کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔مسٹرحسنین نے کہا کہ بہار میں صلاحیت اور فکری استعداد کی کوئی کمی نہیں ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ بہار کی صلاحیت اور فکری قوت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں سامنے لایا جائے۔ گورنر کی صدارت میں بہار لوک بھون میں نالندہ یونیورسٹی کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں نالندہ یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر اروند پنگڑھیا، بہار کے چیف سکریٹری پرتیے امرت، حکومت ہند کی وزارت خارجہ میں سابق سکریٹری رہ چکے رودریندر ٹنڈن، نالندہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سچن چترویدی، یونیورسٹی کے اساتذہ اور بہار لوک بھون کے افسران موجود تھے۔ میٹنگ میں نالندہ یونیورسٹی کی سڑک اور ریل رابطے میں بہتری، نالندہ یونیورسٹی-راجگیر نالج اینڈ انوویشن سٹی کی مجموعی ترقی اور حکومت بہار اور ریاست کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے ساتھ یونیورسٹی کے اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر نے نالندہ یونیورسٹی میں سمرتھ پورٹل کے نفاذ سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سے جڑنے اور اس کی سہولیات اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگوں کو آسان اور سہل نظام فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے نالندہ یونیورسٹی کے طریقہ کار، نظریہ، تاریخ اور اس کے بھرپور تہذیبی ورثے کے بارے میں لوگوں کو مزید معلومات دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مسٹر حسنین نے کہا کہ نالندہ کی تاریخ، علم کی روایت اور ورثے سے متعلق مضامین اور علمی مواد تیار کرکے مختلف مواصلاتی ذرائع سے بڑے پیمانے پر نشر کیا جانا چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نالندہ کی شاندار روایت سے روشناس ہو سکیں۔