پٹنہ، 21 ستمبر (اے بی این) وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے پیر کو کہا کہ ریاست میں اگلا پنچایتی انتخاب پنچایتوں کی حد بندی کے بعد ہی کرایا جائے گا اور تقریباً 7000 کی آبادی پر ایک پنچایت تشکیل دینے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔مسٹر چودھری نے آج یہاں 'گرام سنسد-بہار چیپٹر-پانچ کے مکھیہ سمواد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پنچایتوں کی حد بندی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی کے بعد ہی اگلا پنچائتی انتخاب کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال شہری بلدیاتی اداروں کی حد بندی کا نظام بھی یقینی بنایا جائے گا، جس سے پنچایت اور شہری بلدیاتی علاقوں کا واضح تعین ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنچایت جمہوریت کی سب سے اہم اکائی ہے اور پنچایتوں کی تنظیم نو نیز حد بندی کے دوران علاقے کی آبادی اور انتظامی ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 7000 کی آبادی پر ایک پنچایت بنانے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔مسٹر چودھری نے پنچایتوں میں ترقیاتی کاموں کی عمل آوری میں تکنیکی تعاون فراہم کرنے کے لیے پنچایتی راج محکمہ میں انجینئرنگ سیل قائم کرنے کی بھی بات کہی۔ اس سے پنچایتوں کے مکھیہ کو ترقیاتی اسکیموں کی عمل آوری میں تکنیکی مدد ملے گی اور گاؤں میں ترقیاتی کاموں کی کوالٹی میں بہتری ہوگی۔ پنچایتوں میں ترقیاتی کاموں کے نفاذ میں تکنیکی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے انجینئرنگ سیل قائم کرنے کا فیصلہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سیل کے ذریعے مکھیا کو سڑک، نالی، عمارت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے پنچایتوں کی اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں پر اضافی ٹیکس کا بوجھ ڈالے بغیر پنچایتوں کے مالی وسائل مضبوط کیے جائیں۔ ریاست میں جاری ’سیوا سنکلپ و کایاکلپ ابھیان‘ کے تحت ہر پنچایت میں 10 ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔ صحت مراکز، کمیونٹی بلڈنگ، آنگن باڑی مراکز اور دیگر سرکاری عمارتوں کی مرمت، رنگ و روغن اور بنیادی سہولیات کی بہتری ان میں شامل ہے۔عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ’سہیوگ شیویر‘ کو بھی پنچایت کی سطح تک پہنچایا گیا ہے۔ ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے منگل کو منعقد ہونے والے ان کیمپوں میں موصول درخواستوں کا 30 دن کے اندر نپٹارا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ نپٹارے سے غیر مطمئن افراد کے لیے ریاستی سطح پر بھی سہیوگ پروگرام کا انتظام کیا گیا ہے۔ گاؤں کی سطح پر فیصلہ سازی میں عوام کی شرکت بڑھانے کے لیے ہر ماہ کے آخری اتوار کو گرام سبھا کا اجلاس منعقد کرنے کا انتظام شروع کیا گیا ہے۔ اس طرح سال میں کم از کم 12 مرتبہ گرام سبھا میں گاؤں کی ترقی اور مقامی مسائل پر بحث ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے پنچایتی نمائندوں سے ترقی کے لیے صحت مند مسابقت پیدا کرنے کی اپیل کی، تاکہ سڑک، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی تیز ہوسکے۔ تعلیم اور روزگار کو ریاست کی خود کفالت سے جوڑتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے ریاست سے باہر جا رہے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے بہار میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ نئی سرکاری اور پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے قیام کے ذریعے طلبہ کو ریاست میں ہی معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف 2030 سے پہلے ایک کروڑ لوگوں کو سرکاری ملازمت اور روزگار فراہم کرنا ہے۔ آئندہ چار پانچ برسوں میں روزگار کے ایسے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ بہار کے لوگوں کو روزگار کے لیے مجبوری میں دوسری ریاستوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ کسانوں کے لیے بجلی کی رعایتی شرح کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زرعی کام کے لیے 55 پیسے فی یونٹ کی شرح سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس پر حکومت سالانہ تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ تمام زرعی فیڈروں کو سولرائز کرنے کی سمت میں بھی کام جاری ہے۔ ریاست میں ہر خاندان کو ماہانہ 125 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔ ریاستی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے سرکاری خریداری میں بہار میں تیار ہونے والی مصنوعات کو ترجیح دینے کی بات بھی وزیر اعلیٰ نے کہی۔ ان کے مطابق سریا اور سیمنٹ سمیت بہار میں تیار ہونے والی مصنوعات کی کم از کم 30 فیصد خریداری کو ٹینڈر کے عمل میں شامل کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2047 تک ملک کو ترقی یافتہ بنانے اور 2037 تک بہار کو خوشحال، مضبوط اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے پنچایتی نمائندوں کی تجاویز اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کی ترقی کے بغیر ریاست اور ملک کی مجموعی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔پروگرام سے اعلیٰ تعلیم و قانون کے وزیر سنجے سنگھ ٹائیگر، قانون ساز کونسل کے رکن اور گرام سنسد کے قومی صدر سنجے میوکھ، نائب صدر دیپک ٹھاکر اور نیشنل برانڈ ایمبیسڈر کرن پربھاکر نے بھی خطاب کیا۔