ہنگامے کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی نہیں ہو سکی
Awaz E Bihar••9 ویوز•6 منٹ پڑھیں
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن ارکان نے جمعہ کو لوک سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ دوپہر 12 بجے، ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، اپوزیشن ارکان نے پھر ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ شور شرابے کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان سے خطاب کرنے کی کوشش کی، جس پر صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے انہیں بولنے کی اجازت دی۔ مسٹر رجیجو نے کہاکہ"قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی بھی آج ایوان میں موجود ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے رہنما ہونے کے ناطے اور وزیر اعظم کی جانب سے پرچہ لیک کے خلاف سخت کارروائی کے اعلان کے بعد، اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے میں تعاون کریں۔" انہوں نے کہا کہ جب حکومت سخت قانون بنانے جا رہی ہے، پرچہ لیک روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور اس کی نیت مضبوط قانون سازی کی ہے، تو اپوزیشن کو بھی بحث میں تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کو اپوزیشن کے قائد کی حیثیت سے اس سمت میں پہل کرنی چاہیے، کیونکہ اگر اس معاملے پر بحث نہیں ہوتی تو اس کا غلط پیغام جائے گا۔ مسٹر رجیجو کی اپیل کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ جاری رکھا۔ اس پر صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے بھی کہا کہ جب حکومت بحث کے لیے تیار ہے تو اپوزیشن کو بھی اس کے لیے آمادہ ہونا چاہیے اور ارکان کو اپنی نشستوں پر واپس جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو اس بحث میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اہم بل پیش کیے جانے ہیں، اس لیے ارکان کو اپنی نشستوں پر جا کر ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کرنا چاہیے۔ تاہم ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے قبل صبح 11 بجے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سوالیہ وقفہ شروع ہوتے ہی ایوان کو کارگل وجے دیوس کی سالگرہ کے بارے میں آگاہ کیا اور ایوان کی جانب سے کارگل کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس کے بعد جیسے ہی اسپیکر نے سوالیہ وقفہ شروع کرنے کا اعلان کیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے لگے۔ مسٹر برلا نے ارکان سے شور شرابہ نہ کرنے اور ایوان کی کارروائی میں تعاون کرنے کی اپیل کی، لیکن ارکان نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔اسپیکر نے کہا کہ سوالیہ وقفہ ایوان کی سب سے اہم کارروائی ہوتی ہے، جس کے ذریعے ارکان سوالات پوچھتے ہیں اور حکومت کو جوابدہ بناتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جس موضوع پر اپوزیشن بحث چاہتی ہے، اس پر قواعد کے مطابق بحث کی اجازت دی جائے گی اور ارکان سے ایوان چلانے میں تعاون کی درخواست کی۔تاہم، اسپیکر کی بار بار اپیل کے باوجود ہنگامہ ختم نہ ہوا، جس کے باعث پہلے کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کی گئی، اور بعد ازاں دوبارہ ہنگامہ ہونے پر پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے باعث جمعہ کو راجیہ سبھا میں مسلسل پانچویں روز بھی سوالیہ وقفہ نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اس سے قبل بھی اسی معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث وقفۂ صفر (زیرو آور) کی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔ پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس کا آج پانچواں دن ہے، لیکن اب تک ایوان میں کوئی باقاعدہ کارروائی انجام نہیں دی جا سکی ہے۔ ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے۔ قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے اظہارِ خیال کی اجازت طلب کی، جس پر چیئرمین نے کہاکہ "آپ کی اپنی جماعت کے ارکان ہی اپنی نشستوں پر نہیں بیٹھ رہے، ایسے میں میں کیا کر سکتا ہوں؟" اس کے بعد جیسے ہی مسٹر کھڑگے نے بولنا شروع کیا، حکمراں جماعت کے ارکان نے بھی شور شرابہ شروع کر دیا۔ چیئرمین نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دی۔ دونوں جانب سے شدید ہنگامے کے دوران مسٹر کھڑگے نے کہاکہ "میں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا چاہیے اور وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آ کر بیان دینا چاہیے، اس کے بعد ہم بحث کریں گے۔" ان کے یہ کہتے ہی چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 2 بجے تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل صبح 11 بجے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ یو جی پرچہ لیک کے معاملے پر بحث کرانے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن نے ہنگامہ کیا، جس کے باعث وقفہ صفر نہیں ہو سکا۔ چیئرمین نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے سامنے رکھنے کے بعد جیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع کرنی چاہی، اپوزیشن ارکان نے نیٹ پرچہ لیک کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی۔ چیئرمین نے مسٹر کھڑگے کو اظہارِ خیال کی اجازت دی۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ پیر کے روز نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر جس طرح لاٹھی چارج کیا گیا، وہ انتہائی افسوسناک تھا۔ تاہم وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کر سکے تھے کہ چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل چیئرمین نے ہر سال 26 جولائی کو منائے جانے والے کارگل وجے دیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن کارگل کی چوٹیوں سے پاکستان کی حمایت یافتہ دراندازوں کو نکال باہر کرنے میں بھارتی افواج کی بہادری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر فوجیوں کی جرأت اور قربانی کو سلام پیش کیا جائے۔ ایوان نے کارگل کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔