راہی معصوم رضا نے اپنی تحریروں کے ذریعے مشترکہ ہندوستانی ورثے کو زندہ کیا: گورنر
Awaz E Bihar••26 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 18 ستمبر (اے بی این) گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے کہا کہ راہی معصوم رضا نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کو اپنی تحریروں میں زندہ رکھا اور عام لوگوں کی زندگی، رشتوں اور تجربات کو ادب میں مؤثر انداز میں پیش کیا۔مسٹر حسنین نے جمعرات کو ڈاکٹر رضا کی صد سالہ پیدائش کی تقریبات کے موقع پر بہار میوزیم، پٹنہ میں منعقد 'پٹنہ سیمینار' سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راہی معصوم رضا شاعر، ناول نگار اور فلمی مکالمہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو سمجھنے اور سمجھانے والے بہترین ادیب تھے۔ ان کے الفاظ کتابوں سے نکل کر لوگوں کی زندگی اور یادوں کا حصہ بن گئے۔گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر رضا نے ہندوستان کو عام لوگوں کی نظر سے دیکھا اور اسے اپنی تخلیقات میں پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں گاؤں، گھر، خاندان، دوستی اور رشتوں کی گہری تصویر نظر آتی ہے۔ 'آدھا گاؤں' میں گنگولی صرف کہانی کا پس منظر نہیں ہے بلکہ خود کہانی کا ایک اہم حصہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے تقسیم کے درد کو بھی عام لوگوں کے رشتوں اور زندگی کے ذریعے سامنے رکھا۔مسٹر حسنین نے کہا کہ راہی معصوم رضا کی زبان عام ہندوستانی زبان تھی، جس میں ہندی، اردو، بھوجپوری اور بول چال کے الفاظ قدرتی طور پر گھلے ملے تھے۔ وہ اپنی شناخت کے مختلف حصوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ غالب اور میر کے ساتھ کبیر اور تلسی بھی ان کی مشترکہ وراثت کا حصہ تھے۔ وہ خود فخر سے 'گنگاپتر کہتے تھے۔