متاثرین کو راحت کا سامان بھی بروقت فراہم کیا جائے۔
Awaz E Bihar••45 ویوز•5 منٹ پڑھیں
وزیراعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے آج بہار میں سیلاب کی موجودہ صورتحال کا فضائی سروے کیا۔ فضائی سروے کے دوران وزیراعلیٰ نے گنگا ندی اور اس کی معاون ندیوں کے پانی کی سطح، دریارا اور نشیبی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال اور متاثرہ علاقوں میں جاری راحت و بچاؤ کے کاموں کا جائزہ لیا۔ فضائی سروے کے بعد وزیراعلیٰ نے لوک سیوک آواس واقع ’سنکلپ‘ سبھا گار میں افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی۔ اس دوران سیلاب کی صورتحال، پانی کی سطح، پشتوں کی حالت، راحت و بچاؤ کے کاموں اور متاثرہ علاقوں میں کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیراعلیٰ نے افسران کو فوری مرمت کے کام کرانے اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے راحت و بچاؤ کے کام پوری مستعدی کے ساتھ چلانے اور متاثرین تک ضروری امداد جلد پہنچانے کی بھی ہدایت دی۔ میٹنگ میں بہار موسم سروس سینٹر کے افسر نے بتایا کہ موجودہ موسمی پیش گوئی کے مطابق آنے والے ہفتے میں شدید بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے سکریٹری ڈاکٹر چندرشیکھر سنگھ نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں سون ندی کی پانی کی سطح میں کمی آنے کا امکان ہے۔ گنگا ندی کے پانی کی سطح میں بھی آئندہ دنوں میں کمی کا رجحان رہنے کی توقع ہے۔ پریاگ راج میں گنگا کے پانی کی سطح میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے، جس کا اثر آگے بہار میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔ محکمہ آفات مینجمنٹ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر سنتوش کمار مل نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے متعلق راحت و بچاؤ کے کام پوری چوکسی اور تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں سیلاب راحت کیمپوں اور اجتماعی کچن کے ذریعے لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایس او پی کے مطابق کام بہتر انداز میں چلائے جا رہے ہیں۔ تمام ضلع مجسٹریٹ مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں 27 ایس ڈی آر ایف اور 9 این ڈی آر ایف ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ضرورت کے مطابق ان ٹیموں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور راحت کے کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جائزہ کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی شناخت کرکے ان کی فہرست تیار کی جائے اور انہیں فوری طور پر ضروری راحت فراہم کی جائے۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو امداد حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔ انتظامیہ لوگوں کے ساتھ مثبت تعاون اور مؤثر انتظامات کے ساتھ کام کرے، تاکہ عوام میں کسی قسم کا خوف یا افراتفری کا ماحول پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ پوری حساسیت کے ساتھ عوام کے درمیان رہ کر راحت و بچاؤ کے کاموں کو ترجیح دے۔ متاثرہ علاقوں میں ضلع انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے درمیان بہتر تال میل قائم کرکے ضرورت کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بکسَر سے بھاگلپور تک گنگا ندی کے پشتوں کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ پشتوں میں کسی بڑے کٹاؤ یا ٹوٹ پھوٹ کی صورتحال پیدا نہ ہو، اس کے لیے محکمہ آبی وسائل اور ضلع انتظامیہ پوری طرح چوکس رہے۔ حساس مقامات پر مسلسل نگرانی اور ضروری کارروائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سیلاب راحت کیمپوں اور اجتماعی کچن کے ذریعے لوگوں کو کھانا اور راحت فراہم کرتے رہیں اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ متاثرین کو راحت کا سامان بھی بروقت فراہم کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے سیلاب کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے کمانڈ سینٹر کو براہِ راست سی ایم ڈیش بورڈ سے جوڑنے کی ہدایت دی، تاکہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال، راحت و بچاؤ کے کاموں اور انتظامیہ کی کارروائی کی باقاعدہ اور مؤثر نگرانی وزیراعلیٰ دفتر کی سطح سے بھی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال میں جان و مال کا تحفظ، فوری راحت اور مؤثر بچاؤ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ پوری مستعدی سے کام کریں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل رکھی جائیں اور راحت و بچاؤ کے کاموں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ سیلاب کی صورتحال میں متاثرین کو ایس او پی کے مطابق مکمل مدد فراہم کی جاتی رہے۔ میٹنگ میں نائب وزیراعلیٰ و وزیر آبی وسائل جناب وجے کمار چودھری،آفات مینجمنٹ کے وزیر جناب رتنیش سدا، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر دیپک کمار، چیف سکریٹری مسٹر پرتّیے امرت، ڈی جی پی مسٹر ونئے کمار، محکمہ آفات مینجمنٹ کے پرنسپل سکریٹری مسٹرسنتوش کمار مل، محکمہ زراعت کے پرنسپل سکریٹری مسٹر نرمدیشور لال، محکمہ تعمیراتِ سڑک کے سکریٹری مسٹرپنکج کمار پال، وزیراعلیٰ کے سکریٹری مسٹر لوکیش کمار سنگھ، محکمہ دیہی امور کے سکریٹری مسٹر ابھے کمار سنگھ، وزیراعلیٰ کے سکریٹری مسٹر سنجے کمار سنگھ، محکمہ آبی وسائل کے سکریٹری ڈاکٹر چندرشیکھر سنگھ سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ میٹنگ میں 13 اضلاع—جہان آباد، ارول، بھوجپور، نالندہ، روہتاس، اورنگ آباد، مونگیر، بھاگلپور، بیگوسرائے، کھگڑیا، لکھی سرائے، کٹیہار اور ویشالی کے ضلع مجسٹریٹ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل ہوئے، جبکہ پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ مسٹر کندن کمار اور ایس ایس پی مسٹر کارتیکے کے. شرما میٹنگ میں موجود تھے۔